دوحہ (سماج نیوز ڈیسک) — 20 اکتوبر 2025: پاکستان اور افغانستان نے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی خونریز سرحدی جھڑپوں کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان یہ معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران طے پایا، جس میں قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔🇵🇰 پاکستان اور افغانستان میں مہلک سرحدی جھڑپوں کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق
🔹 پس منظر
سرحدی کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا جب پاکستان نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کی طالبان حکومت پاکستانی علاقوں پر حملہ کرنے والے مسلح گروہوں کو پناہ دے رہی ہے۔
افغانستان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے فضائی اور زمینی حملوں سے افغان خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
جھڑپوں کے دوران توپ خانے کی گولہ باری، فضائی حملے اور سرحدی گولیاں چلنے کے واقعات پیش آئے جن میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک کم از کم 37 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔
🔹 معاہدے کی شرائط
دوحہ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے مطابق:
- دونوں ممالک نے فوری طور پر تمام دشمنانہ کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا۔
- کسی بھی فریق کو دوسرے کے خلاف سرگرم مسلح گروہوں کی مدد یا پناہ دینے سے گریز کرنا ہوگا۔
- دونوں ممالک کی خودمختاری اور سرحدی احترام کو تسلیم کیا گیا۔
- معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی قائم کی جائے گی۔
فریقین کے درمیان اگلے مرحلے کی بات چیت استنبول میں رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔
🔹 دونوں ممالک کے بیانات
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ “یہ معاہدہ خطے میں استحکام کی جانب ایک مثبت قدم ہے، امید ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا۔”
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ “افغانستان امن کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کو تصادم کے بجائے مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے۔”
🔹 انسانی صورتحال
سرحدی بندش کے باعث چمن اور طورخم جیسے اہم تجارتی راستے بند ہو گئے، جس سے تجارت، روزگار اور بنیادی اشیاء کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ایک مقامی تاجر نے سماج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“لوگ خوفزدہ تھے، روزی بند ہو گئی تھی۔ اب دعا ہے کہ یہ جنگ بندی قائم رہے تاکہ زندگی معمول پر آئے۔”
🔹 مستقبل کے چیلنجز
ماہرین کے مطابق یہ جنگ بندی خوش آئند قدم ہے مگر اعتماد کی کمی، دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں، اور غیر واضح سرحدی انتظامات مستقبل میں ایک بار پھر کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
🔹 علاقائی اہمیت
اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات، عوامی آمد و رفت اور علاقائی استحکام میں بہتری آ سکتی ہے۔
دوحہ مذاکرات میں قطر اور ترکی کے ثالثی کردار نے خطے میں نئے سفارتی رجحانات کو بھی اجاگر کیا ہے۔
مزید تازہ ترین علاقائی و عالمی خبریں پڑھنے کے لیے وزٹ کریں:
🌐 www.samaj.com.pk