نمازِ جمعہ کے دوران قیامت ٹوٹ پڑی، پہلی رکعت کے سجدے میں دھماکہ، فائرنگ کے بعد خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید جبکہ 168 سے زائد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
عینی شاہدین کی لرزہ خیز روداد
دھماکے میں زخمی ہونے والے زاہد علی نے بتایا کہ نماز تقریباً ایک بجے شروع ہوئی۔
“ہم پہلی رکعت مکمل کر کے سجدے میں گئے ہی تھے کہ ایک زوردار دھماکہ ہوا، ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی اور دھواں پھیل گیا۔ میں بے ہوش ہو گیا تھا، ہوش آیا تو خود کو زخمی حالت میں پایا۔”
زاہد علی کے کزن جواد خان نے بتایا کہ وہ دونوں وضو میں تاخیر کے باعث آخری صفوں میں پہنچے تھے۔
“میں نے دیکھا کہ خودکش بمبار نے گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ پر فائرنگ کی، پھر اندر داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا، اس دوران مزید فائرنگ بھی ہوتی رہی۔”
دو حملہ آور، ایک فرار
ایک اور عینی شاہد حیدر عباس رضوی کے مطابق دو مسلح افراد نے امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہو کر گر پڑے جبکہ تیسرے نے جوابی فائرنگ کی۔
“جوابی فائرنگ میں ایک حملہ آور فرار ہو گیا جبکہ دوسرا فائرنگ کرتا ہوا امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا۔ سکیورٹی اہلکار کی گولی لگنے کے بعد حملہ آور گرا اور زوردار دھماکہ ہوا۔”
حیدر عباس رضوی کے مطابق اگر خودکش حملہ آور مسجد کے اندر مکمل طور پر داخل ہو جاتا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
لاشیں اور اعضا بکھر گئے
دھماکے کے بعد جائے وقوعہ کا منظر انتہائی دلخراش تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق درجنوں لاشیں، انسانی اعضا اور گوشت کے لوتھڑے چھت اور دیواروں سے چپکے ہوئے تھے۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور لاشوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود حملہ
رضا جعفر نامی عینی شاہد کے مطابق امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر نماز کے اوقات میں چھ سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، جن میں سے تین تلاشی جبکہ تین مسلح ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چند سال قبل بھی اس امام بارگاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جو ناکام بنا دی گئی تھی۔
زخمیوں کی حالت
دھماکے میں زخمی ظہیر عباس نے بتایا:
“میں پہلی رکعت میں تھا کہ دو گولیوں کی آواز سنائی دی، پھر سجدے میں جاتے ہی دھماکہ ہو گیا۔ ہر طرف زخمی پڑے تھے، میں ہوش کھو بیٹھا۔”
واقعہ کہاں پیش آیا؟
امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ کامسیٹ یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کے قریب واقع ہے جبکہ ریڈ زون سے صرف 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
واقعے کے بعد پولیس، رینجرز اور فوج کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ فرانزک ٹیم نے شواہد اکٹھے کر لیے جبکہ فرار ہونے والے مبینہ خودکش حملہ آور کی تلاش کے لیے شہر بھر میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں سے تعاون کریں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔
ڈاکٹر الطاف بوسن کے بھائی فرمان علی بوسن شہید، بیٹا اور عزیز زخمی

ترلائی امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دہشت گرد حملے میں انسدادِ پولیو پروگرام کے نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر الطاف بوسن کے بھائی فرمان علی بوسن شہید ہوگئے، جبکہ ان کے بیٹے غلام نقی بوسن سمیت متعدد کزنز زخمی ہوگئے۔
شہید فرمان علی بوسن محکمۂ تعلیم کے ریٹائرڈ افسر تھے اور نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے امام بارگاہ میں موجود تھے کہ دھماکہ ہوا۔ حملے کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈاکٹر الطاف بوسن نے کراچی میں جاری انسدادِ پولیو مہم کی اپنی سرکاری سرگرمیاں فوری طور پر معطل کیں اور اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
شہید فرمان علی بوسن کی نمازِ جنازہ اسلام آباد میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جبکہ تدفین بھی اسلام آباد میں ہی عمل میں آئی۔
اس افسوسناک واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر الطاف بوسن نے کہا کہ “میرے بھائی کی شہادت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان آج بھی دہشت گردی کے خلاف ایک مشکل جنگ لڑ رہا ہے، جس میں معصوم شہری اور ہمارے بہادر سکیورٹی اہلکار روزانہ نشانہ بن رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ سفاکانہ کارروائیاں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور عوام میں خوف پھیلانے کی مذموم کوشش ہیں، تاہم پاکستان ان شیطانی قوتوں اور ان کے ایجنٹوں کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا جو ملک کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر الطاف بوسن نے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہادر جوان سرحدوں اور شہروں میں وطن کی حفاظت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امام حسینؑ کے فلسفۂ حق، قربانی اور استقامت سے حوصلہ ملتا ہے، اور کوئی ذاتی دکھ پاکستان اور آلِ محمد ﷺ سے بڑھ کر نہیں۔ “ہمارا غم ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے، اور ہم امن، استحکام اور معصوم جانوں کے تحفظ کے لیے ریاست اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔”