• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

افغان مہاجر اور ہندوستانی مہاجر: ایک سماجی رویے کا فرق

Bysamaj.com.pk

اکتوبر 22, 2025

رضیہ سلطانہ جونیجو

پاکستان کی تاریخ میں مہاجرت ایک مشترکہ تجربہ ہے، مگر ہر مہاجر گروہ کا رویہ اور سماجی کردار الگ رہا۔ دو نمایاں مثالیں ہیں: افغان مہاجر اور ہندوستانی مہاجر۔ دونوں نے اپنے اپنے اسباب کے تحت ہجرت کی، لیکن سندھ کے معاشرتی ڈھانچے میں ان کا کردار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔

افغان مہاجرین نے سندھ میں رہائش اختیار کی تو مقامی معاشرت سے تصادم کے بجائے انضمام کا راستہ اپنایا۔ انہوں نے سندھی زبان سیکھی، لوگوں سے رشتے بنائے، کاروبار کیے اور مقامی معیشت میں حصہ ڈالا۔ ان کے رویے میں سندھ کی زبان یا ثقافت کے لیے تحقیر نہیں تھی، بلکہ احترام اور شراکت کا جذبہ زیادہ نمایاں رہا۔

سندھ کے مختلف علاقوں میں اگر کبھی افغان اور سندھیوں کے درمیان تنازع ہوا تو اسے جرگے یا صلح کے ذریعے حل کیا گیا۔ افغانوں نے سندھ کے روایتی عدالتی ڈھانچے اور مقامی رواج کو تسلیم کیا۔ یہی طرزِ عمل ان کے لیے قبولیت کا باعث بنا۔

اس کے برعکس، 1947 کے بعد آنے والے ہندوستانی مہاجرین کا سندھ کے ساتھ تعلق کشیدہ رہا۔ مہاجر طبقہ عام طور پر خود کو ثقافتی اور تعلیمی لحاظ سے “برتر” سمجھتا تھا۔ یہ احساسِ برتری انہیں سندھ کی زبان اور ثقافت سے دور لے گیا۔ کئی نسلوں تک سندھی زبان بولنا “کم تر ہونے” کی علامت سمجھا گیا۔

پچھلے کئی مہاجر سیاستدانوں نے سندھ کی تقسیم کی بات کی، الگ صوبے کا مطالبہ کیا، اجرک اور سندھی ٹوپی کی توہین کی، سندھیوں کی عورتوں کو “ہندو کے پاس گروی” ہونے جیسے جملے کہے، اور “سندھی غیر مقامی ہے” کا بیانیہ پھیلایا۔ یہ طرزِ گفتگو نہ صرف نفرت کو بڑھاتا ہے بلکہ سندھ کے لوگوں کے احساسِ وابستگی کو بھی مجروح کرتا ہے۔ سیاسی طور پر بھی مہاجر قیادت نے علیحدگی کے بیانیے کو فروغ دیا، جس سے صوبائی ہم آہنگی کمزور ہوئی۔

سندھ میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی سندھی نوجوان کسی مہاجر کے ہاتھوں قتل ہو جائے تو انصاف کم ہی ملتا ہے۔ ریاستی اداروں کا رویہ اکثر خاموش یا جانبدار دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں کراچی میں سندھی افسران کے قتل کے واقعات بھی ہوئے، جس کے بعد سندھی افسر اردو بولنے والے علاقوں میں تعیناتی سے گریز کرنے لگے۔ یہ لسانی خلیج صرف عوام میں نہیں، اداروں کے اندر بھی سرایت کر گئی۔ یہ رویہ اس بڑے مسئلے کی علامت ہے جہاں انصاف اور قانون کی بنیاد زبان یا شناخت پر رکھی جاتی ہے۔

افسوس ہے کہ کچھ مہاجر ادیبوں اور صحافیوں نے بھی تقسیم کے اس بیانیے کو تقویت دی۔ ان کے کالموں اور تقریروں میں “اندرون سندھ” اور “کراچی و سندھ” جیسے الفاظ عام ہوئے، جو دراصل سندھ کی تقسیم کا ادبی جواز بن گئے۔ یہ ایک ادبی فراڈ تھا۔ لفظوں میں چھپی علیحدگی نے سوچوں میں دراڑ پیدا کی، اور لوگوں نے مان لیا کہ کراچی سندھ نہیں، حالانکہ کراچی ہمیشہ سندھ کا دل رہا ہے۔

یہی رویہ اب سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ جب کوئی سندھی نوجوان علمی یا فکری گفتگو کرے تو بعض مہاجر صارفین طنز کرتے ہیں کہ “سندھی کہاں سے ایسی باتیں کرنے لگے؟” یہ ڈیجیٹل دور میں جنمی ہوئی نسل پرستی ہے، جو سندھیوں کو فکری طور پر کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اسی دوران کچھ مہاجر گروہ خود افغانیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، انہیں “جرائم پیشہ” کہہ کر ان کے ٹرکوں کو روکتے ہیں اور سڑکوں پر مظاہرے کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ چند مہاجر ایسے بھی ہیں جو سندھ کو “متروکہ زمین” کہہ کر نفرت کا بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ ان میں کچھ لوگ بیرونِ ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا پر شرارتیں کرتے رہتے ہیں، گویا سندھ سے ان کی دشمنی ایک مہم بن چکی ہے۔ مگر اس کے برعکس، افغانی کبھی گالی نہیں دیتے۔ ان کے لبوں پر ہمیشہ نرمی اور لہجے میں احترام رہتا ہے۔

یہ فرق قومیت کا نہیں، بلکہ سماجی تجربے اور تاریخی پس منظر کا ہے۔ افغان مہاجر پناہ گزین تھے، اس لیے انہوں نے بقا کے لیے مقامی معاشرے میں گھلنے کی کوشش کی۔ ہندوستانی مہاجر ایک نئے ملک کے شہری کے طور پر آئے اور اپنی شناخت کے تحفظ پر زور دیا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں اعتماد کی دیوار کھڑی ہوئی، جو آج تک مکمل طور پر نہیں گری۔

افغان مہاجر اور ہندوستانی مہاجر دونوں نے سندھ کی سرزمین پر پناہ پائی، مگر ایک نے اس مٹی کو اپنا گھر سمجھا، دوسرے نے محض ٹھکانہ۔ جب تک احترامِ ثقافت اور برابری کا جذبہ پیدا نہیں ہوگا، مہاجرت صرف جغرافیہ بدلے گی، دل نہیں۔

آج جب سندھ میں لسانی سیاست دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اصل مسئلہ طاقت یا صوبہ نہیں بلکہ شناخت اور احترام ہے۔ جب تک ہم “کراچی” اور “اندرون سندھ” جیسے الفاظ میں فرق کرتے رہیں گے، ہم دراصل ایک ہی سرزمین کو دو حقیقتوں میں بانٹتے رہیں گے۔

اصل ترقی تب ممکن ہے جب مہاجر، سندھی، بلوچ، پنجابی اور پختون ایک دوسرے کی زبان، ثقافت اور شناخت کو برابری کے احترام سے دیکھیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک منصف، باشعور اور پرامن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

اس وقت پاکستان اور افغانستان میں جنگ شروع ہوگئی ہے اور حکومت نے بیان دیا ہے کہ افغانی ملک چھوڑ دیں۔ دیکھتے ہیں عمل کب ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستان کے مہاجروں کے پاس کوئی آپشن نہیں، پھر سندھ سے نفرت کرتے ہیں۔ وہی سندھ جس نے انہیں جگہ دی، روزگار دیا، مگر ناشکرے ہیں کہ الٹا سندھ کو کہتے ہیں کہ سندھی قوم نہیں۔ 

نوٹ: یہ مضمون محض فکری و معلوماتی مباحث کے فروغ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ سماج نیوز اس کے مندرجات سے لزوماً متفق نہیں ہے۔ اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی کی دل آزاری یا تضحیک نہیں بلکہ اظہارِ خیال اور فکری مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ ہم اپنے تمام معزز قارئین اور صارفین کے احترام کو مقدم رکھتے ہیں۔
www.samaj.com.pk