تحریر محبوب انصاری
پاکستان کی معیشت کئی محاذوں پر مشکلات میں گھری ہے، مگر جس بحران نے چپکے سے پوری بنیاد ہلا دی ہے وہ ٹیکسٹائل اور اسپننگ سیکٹر کی بے بسی ہے۔ ملک کی معاشی شناخت، برآمدات کا ستون اور دیہی معیشت کی سب سے بڑی محرک یہی کپاس اور ٹیکسٹائل کی صنعت تھی۔ اب وہی صنعت بند ہوتے دروازوں، خاموش مشینوں اور بے روزگار مزدوروں کے ذریعے ایک المناک کہانی لکھ رہی ہے۔
ملکی تاریخ کے بدترین معاشی دباؤ کا سامنا اس وقت اسپننگ اور جننگ سیکٹر کر رہے ہیں۔ سو سے زیادہ اسپننگ ملز اور چار سو سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جس نے خام روئی کی خرید تقریباً ختم کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں کپاس کی پیداوار میں خطرناک کمی ہوئی ہے۔ جس ملک کی پیداوار کبھی 15 ملین بیلز تھی وہ اب بمشکل 5.5 ملین تک محدود ہو چکی ہے۔
صنعتی حکام کا شکوہ بے بنیاد نہیں۔ مہنگے ترین پاور ٹیرف، بھاری ٹیکس اور درآمدی یارن نے مقابلہ ناممکن بنا دیا ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ چین اور دیگر ممالک سے انڈر انوائسڈ یارن کی آمد کھلے عام جاری ہے۔ صنعت نے ایف بی آر کو بارہا بتایا کہ ہر ماہ لاکھوں کلو یارن کم قیمت ظاہر کر کے ملک میں داخل ہو رہا ہے، مگر کاروائی کے بجائے خاموشی کا بوجھ بڑھتا گیا۔ فیصل آباد کے یارن بازار میں بغیر انوائس فروخت کے واقعات قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان دے رہے ہیں۔ یہ محض بے ضابطگی نہیں، باضابطہ معاشی خودکشی ہے جس کی قیمت مزدور اور کاشتکار ادا کر رہے ہیں۔
کپاس کا معاملہ صرف ایک فصل کا نہیں۔ یہ قومی معیشت کا وہ دھاگا ہے جس سے گاؤں کاشتکار، شہر کی ملیں، برآمدی آرڈرز اور ملکی زرمبادلہ سب بندھے ہیں۔ کپاس کی قیمت آٹھ ہزار روپے فی چالیس کلو تک گر چکی ہے جو کاشتکار کے لئے تباہ کن ہے۔ کسانوں نے کھیتوں سے کپاس نکال کر گنے کی کاشت شروع کر دی ہے۔ اس کے اثرات صرف ٹیکسٹائل تک محدود نہیں رہیں گے، خوردنی تیل کی درآمد پر اربوں ڈالر مزید خرچ کرنا پڑے گا۔
ٹیکسوں کا طوفان بھی کسی سے کم نہیں۔ جننگ سیکٹر کپاس اور اس کی بائی پروڈکٹس پر مجموعی 86 فیصد سیلز ٹیکس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ادھر ٹیکسٹائل ملوں سے دس سال پرانے گیس بلوں کی وصولی کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ سرمایہ کار اپنا سرمایہ بچانے اور مزدور اپنی روزی بچانے کی دوڑ میں ہیں۔
رحیم یار خان کی مثال پوری کہانی بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ وہ ضلع جہاں 125 کے قریب جننگ فیکٹریاں چلتی تھیں، اب صرف 45 باقی ہیں۔ آئل ملز بھی ڈیڑھ سو سے سکڑ کر پچیس رہ گئی ہیں۔ سو سے زیادہ اسپننگ یونٹس کے تالے لگ چکے ہیں۔ اگر ایک زرعی ضلع اس حال میں ہے تو ملک کی مجموعی تصویر اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
اب سوال یہ نہیں کہ بحران ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ فیصلہ کون کرے گا اور کب کرے گا۔ کم از کم بیس فیصد درآمدی ڈیوٹی لگائے بغیر، توانائی نرخوں میں کمی کے بغیر، ٹیکسوں کا بوجھ کم کیے بغیر اور صنعت کو فوری ریلیف دیے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں۔ کپاس کی کاشت کی بحالی کو پالیسی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
وقت کم ہے۔ اگر حکومت نے اس سیکٹر کو بچانے میں تاخیر کی تو ٹیکسٹائل ایک شعبہ نہیں رہے گا بلکہ تاریخ کا باب بن جائے گا۔ پاکستان کی معیشت کو کپاس کی خوشبو دوبارہ چاہیے، اور اس کے لئے سنجیدہ، عملی اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔ پاکستان کا معاشی تانا بانا اسی کپاس کے دھاگے سے مضبوط ہو سکتا ہے۔ اگر یہ دھاگا ٹوٹ گیا تو نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں ہوگا۔