• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

سقوط ڈھاکہ 16 دسمبر 1971

Bysamaj.com.pk

دسمبر 16, 2025

بنگلہ دیش کی علیحدگی اور آج کا سندھ، تاریخ خود کو کیوں دہرا رہی ہے؟
تحریر: محبوب انصاری

یہ سوال کہ بنگلہ دیش پاکستان سے الگ کیوں ہوا، صرف تاریخ کا باب نہیں بلکہ آج کے پاکستان کے لیے ایک زندہ سبق ہے۔ 1971 کا سانحہ کسی ایک دن، ایک فیصلے یا ایک جنگ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ برسوں پر محیط سیاسی، لسانی اور معاشی ناانصافیوں کا منطقی انجام تھا۔

پاکستان بننے کے فوراً بعد ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ ریاست دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ مشرقی پاکستان آبادی میں اکثریت رکھتا تھا مگر اقتدار، پالیسی سازی اور ریاستی اداروں پر مغربی پاکستان کا غلبہ تھا۔ جمہوریت کا بنیادی اصول، یعنی اکثریت کی رائے، عملاً تسلیم ہی نہیں کی گئی۔ یہی رویہ وقت کے ساتھ احساسِ محرومی کو نفرت اور پھر بغاوت میں بدلتا چلا گیا۔

لسانی مسئلہ اس خلیج کی سب سے بڑی علامت بنا۔ اردو کو واحد قومی زبان بنانے کا فیصلہ محض ایک انتظامی اعلان نہیں تھا بلکہ بنگالی عوام کے لیے اپنی شناخت کے انکار کے مترادف تھا۔ بنگالی زبان اس خطے کی اکثریتی زبان تھی، اس کے باوجود اسے قومی سطح پر تسلیم نہ کیا گیا۔ ڈھاکہ کی سڑکوں پر زبان کے حق میں بہنے والا خون دراصل اسی لمحے اعلان تھا کہ یہ ریاست اپنے شہریوں کو برابر تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ بنگلہ دیش کا قیام کسی حد تک اسی لسانی جبر کا ردعمل تھا، یہ کہنا غلط نہیں کہ اردو زبان کو زبردستی مسلط کرنے کی پالیسی نے علیحدگی کی بنیاد مضبوط کی۔

معاشی ناانصافی نے اس بحران کو مزید گہرا کیا۔ مشرقی پاکستان زرِ مبادلہ کما رہا تھا، مگر ترقیاتی منصوبے، صنعت اور بنیادی ڈھانچہ مغربی پاکستان میں بنتا رہا۔ بنگالیوں کو یہ احساس مسلسل دلایا گیا کہ وہ وسائل پیدا کرنے والے ہیں مگر فیصلوں اور فوائد میں شریک نہیں۔

1970 کے عام انتخابات نے اس خلیج کو کھل کر سامنے رکھ دیا۔ عوامی لیگ کو واضح اکثریت ملی، مگر اقتدار منتقل نہ کیا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب سیاسی مسئلے کو طاقت سے حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فوجی آپریشن نے حالات کو سنبھالنے کے بجائے جلتی پر تیل کا کام کیا اور بھارت کو مداخلت کا موقع ملا۔ نتیجہ تاریخ کے سامنے ہے۔

آج اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب ماضی کا قصہ ہے تو یہ ہماری سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ آج بھی اسٹیبلشمنٹ صوبوں کے حقوق پر وار کر رہی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ پر صوبوں کے حصے کم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، وسائل کی تقسیم ایک بار پھر مرکز کے حق میں موڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سندھ کے خدشات کوئی وہم نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی ہیں۔ سندھ بارہا یہ سوال اٹھاتا آیا ہے کہ اس کے وسائل، اس کی بندرگاہیں اور اس کی معیشت ملک کو سہارا دیتی ہیں مگر فیصلوں میں اسے برابر کی شراکت کیوں نہیں ملتی۔

اسی تناظر میں یہ جملہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ طاقتور گروہ سندھ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، جس کی سندھی قوم متفقہ طور پر مخالفت کرتی ہے، مگر مہاجروں کو آگے لا کر ایک بار پھر وہی پرانی حکمتِ عملی دہرائی جا رہی ہے، جیسے کبھی اردو زبان کو بنیاد بنا کر بنگال کو الگ راستے پر دھکیل دیا گیا تھا، اور آج کراچی کو صوبہ بنانے جیسے نعرے اسی خطرناک تسلسل کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش کی علیحدگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زبان، شناخت اور وسائل کے سوال کو طاقت سے نہیں دبایا جا سکتا۔ جب ریاست اپنے ہی شہریوں کو برابر کا شریک ماننے سے انکار کرے تو تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ آج بھی وقت ہے کہ اس سبق کو سنجیدگی سے سمجھا جائے، ورنہ کل کے سوالات آج سے کہیں زیادہ سخت ہوں گے۔