میں پرو اسرائیل نہیں، غزہ کے قتل عام کی مستقل مذمت کرتی آئی ہوں” ڈاکٹر شمع جونیجو
ڈاکٹر شمع جونیجو کا اقوام متحدہ اجلاس میں شریک ہونا پاکستان کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں تھا: دفترِ خارجہ
تحریر: ثقلین امام
ڈاکٹر شمع جونیجو کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 80ویں اجلاس میں پاکستان کے وفد کے ساتھ موجودگی ایک ایسے تنازعے میں ڈھل گئی جس نے نہ صرف ملک کے اندرونی تضادات کو بے نقاب کیا بلکہ ہمارے عوامی مباحثے کی کمزوریوں کو بھی سامنے لے آیا۔
جب یہ خبر سامنے آئی کہ ڈاکٹر جونیجو پاکستانی وفد کا حصہ ہیں تو ملکی مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کا طوفان کھڑا ہوگیا۔ حکومت اور دفترِ خارجہ نے معاملے پر کھلے عام وضاحت دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف سمیت سرکاری نمائندوں کے بیانات مبہم اور غیر واضح تھے، جس سے معاملہ مزید الجھ گیا۔ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ڈاکٹر شمع جونیجو کے پرانے بیانات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگے—ایسے بیانات جو “ابراہام اکارڈز” کے تناظر میں دیے گئے تھے اور جنہیں اسرائیل کے حوالے سے نرم مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا۔
اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر شمع جونیجو نے سوشل میڈیا پر تحریر کیا:
“میں ایک اکیڈیمک ہوں۔ میرے 2018 میں دیے گئے ایک پی ایچ ڈی انٹرویو کو بنیاد بنا کر مجھے پرو اسرائیل قرار دیا جارہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میں 2023 سے تقریباً روزانہ غزہ میں قتلِ عام اور نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف لکھ رہی ہوں۔ میں نے اسرائیل کے خلاف ہزاروں ٹویٹس اور بیانات دیے ہیں، لیکن وہ کسی کو نظر نہیں آتے۔
پاکستان کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق میرے تبصرے صرف عرب ممالک کے ابراہام اکارڈز کے دوران دیے گئے تھے۔ غزہ جنگ کے بعد سے میں نے ہمیشہ اسرائیلی مظالم کی سختی سے مذمت کی ہے اور کرتی رہوں گی۔”
شمع جونیجو نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی جنرل اسمبلی میں آمد کے بعد پاکستان کے وفد کے ساتھ اُن کا واک آؤٹ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔
ڈاکٹر شمع جونیجو نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ اُن کا تحقیقی مقالہ “Who Governs Pakistan? — A Case Study of Military Ethics” پاکستانی فوج کی اخلاقیات اور سیاسی مداخلت پر تنقیدی مطالعہ ہے۔ ان کے تعلیمی پروفائل میں LLB (Hons)، MA (International Relations) اور MA (Diplomacy) بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر جونیجو کی وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ایک محقق ہیں جو آزاد رائے رکھنے کا حق رکھتی ہیں۔ اُن کے ریکارڈ میں غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی پالیسیوں کی مسلسل مخالفت درج ہے۔ لیکن حکومتِ پاکستان نے اُن کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے خود کو ان سے الگ کرلیا اور بالآخر اُنہیں تنہا چھوڑ دیا۔ یہ طرزِ عمل اصولی مؤقف کے بجائے اس خوف کی عکاسی کرتا ہے کہ کہیں پاکستان کے پسِ پردہ اسرائیل سے تعلقات کی بحث مزید نہ کھل جائے۔
یہ کوئی راز نہیں کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقے ماضی میں اسرائیل کے ساتھ محدود تعلقات پر غور کرتے رہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور سے لے کر اب تک مختلف مواقع پر دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقاتیں ہوئیں، پاکستانی وفود اسرائیل گئے، اور حال ہی میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے ایک قرارداد کے مسودے کو اس انداز میں نرم کیا کہ اسرائیلی میڈیا نے کھلے عام پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ ایسے ہی پس منظر میں ڈاکٹر شمع جونیجو ایک آسان نشانہ بن گئیں۔
یقیناً اُن کے کئی سیاسی خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اور میں خود اُن سے اصولی اختلاف رکھتا ہوں، لیکن جس انداز میں حکومتِ پاکستان نے میڈیا کے دباؤ کے بعد اُنہیں تنہا چھوڑ دیا، وہ افسوسناک اور کسی بھی باوقار حکومت کے شایانِ شان نہیں۔ ایک اسکالر اور شہری کے طور پر وہ احترام کی مستحق ہیں، نہ کہ کردار کشی کی۔ دراصل یہ تنازعہ اُن کے ذاتی مؤقف سے زیادہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ کی غیر شفافیت اور کمزور ساکھ کو آشکار کرتا ہے








طاہرہ جونیجو نے اپنی فیسبک اکاؤنٹ پر پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ
فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ڈاکٹر شمع جونیجو کے خلاف جو پروپیگنڈا مہم چلائی جارہی ہے، وہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی شخصیت کتنی اثر انگیز ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہی ہوتا ہے: جب کسی کے سامنے دلیل نہ ہو تو کم از کم شور شرابا اور الزام تراشی شروع کر دی جاتی ہے۔ آج یہی تماشا ڈاکٹر شمع جونیجو کے خلاف برپا ہے۔
کئی حلقے، جو عرصے سے موقع کے انتظار میں تھے مگر منظرِ عام پر نہ آسکے، اب مایوسی کے عالم میں صرف الزام تراشی اور کردار کشی پر اتر آئے ہیں۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ایک سندھی عورت کو اللہ نے عزت و وقار بخشا، اور یہ بات اُن کے لئے ناقابلِ برداشت ہے جو ہمیشہ سندھیوں کے خلاف دل میں جلن رکھتے ہیں۔ اگر ایک پاکستانی عورت کامیاب ہو جائے، اور وہ بھی ایک سندھیانی، تو پروپیگنڈا تو ضرور ہوگا۔
یاد رکھیے! فاطمہ جناح کو نہیں چھوڑا گیا، بینظیر بھٹو کو نہیں بخشا گیا، تو ڈاکٹر شمع جونیجو کس شمار میں ہیں؟ وہ تو ایک غریب گھرانے کی باوقار باپ کی عظیم بیٹی ہیں۔ لکھنے والوں سے سوال ہے: کیا آپ کے گھر کی عورت نے کوئی نام پیدا کیا؟ اگر نہیں، تو دل کی جلن تو لازمی ہے۔
ہمارے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ رحیم بخش جونیجو کی بیٹی ڈاکٹر شمع جونیجو، جونیجو خاندان کا سرمایہ اور پاکستان کے لئے روشن چراغ ہیں۔ جو بولنا چاہتے ہیں بولیں، کیونکہ اللہ اپنے خاص بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔ ان شاء اللہ، شمع کا نام اور روشنی مزید بلند ہوگی۔
"میری خوبی پہ رہتے ہیں یہاں اہلِ زباں خاموش،
میرے عیبوں کا چرچا ہو تو گونگے بھی بول اٹھتے ہیں۔”
۔