• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

انہونی کو ہونی میں تبدیل کرنے والی حسنہ راہوُ کی وفات

Bysamaj.com.pk

اکتوبر 24, 2025

ڈاکٹر ایوب شیخ

صوبہ سندھ میں خواتین کا سیاست میں ایک لازوال کردار اُس وقت نمایاں طور پر سامنے آیا جب ون یونٹ مخالف تحریک کے دوران جنرل ایوب خان کے خلاف ادی اختر بلوچ، ادی ریاض (رضیہ) میمن اور ادی نسیم سندھی نے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد سے ایک شاندار تحریک کا آغاز کیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب خواتین کا سیاسی وجوہات کی بنا پر جیل جانا انہونی بات سمجھا جاتا تھا، لیکن ان باہمت خواتین نے اسے ہونی میں بدل دیا۔

یہ روایت آج تک سندھ میں قائم ہے۔

ادی اختر بلوچ، نامور گلوکارہ جی جی زرینہ بلوچ کی بیٹی اور ڈاکٹر اسلم عمرانی و ایاز لطیف پلیجو کی بہن ہیں۔ بعدازاں ان کی شادی جناب رسول بخش پلیجو کے بھائی غلام قادر پلیجو سے ہوئی، جن سے ان کے بچے سسی پلیجو، سرمد، اسد، بختاور مظہر اور پرہ پلیجو پیدا ہوئے۔

ادی ریاض میمن یا رضیہ میمن کی شادی نامور وکیل مسعود نورانی سے ہوئی، جو بڑے دانشور اور چار مارچ تحریک کے ایک ہیرو کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

ادی نسیم سندھی کی شادی عوامی تحریک کے تاحیات سرگرم رہنما پناہ جگر سندھی سے ہوئی تھی۔ آج دونوں اس دنیا میں نہیں رہے، جبکہ ان کی دو بیٹیاں لندن میں مقیم ہیں۔

1983ء میں ایم آر ڈی تحریک کے دوران سندھ میں ایک بڑی سیاسی لہر اٹھی، جب عوامی تحریک کے سربراہان جناب رسول بخش پلیجو اور جناب محمد فاضل راہو نے اپنے گھروں کی خواتین کو تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے اور جیل بھرو تحریک میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔

1978ء میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بھٹو بچاؤ تحریک کا آغاز ہوا، جس کی پہلے دن نامور گلوکارہ جی جی زرینہ بلوچ نے قیادت کی اور انہیں حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا۔ ان کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی متعدد خواتین بھی گرفتار کی گئیں۔

1983ء کی ایم آر ڈی تحریک میں پورے صوبے سندھ سے خواتین نے گرفتاریاں پیش کیں۔
شہر کراچی میں پیپلز پارٹی کی کئی خواتین بشمول نورجہاں سومرو اور آپا رقیہ خانم سومرو نے گرفتاریاں دیں۔

اسی دن جب محترمہ بے نظیر بھٹو گرفتار ہوئیں، عوامی تحریک کی کئی خواتین کو بھی گرفتار کر کے سینٹرل جیل کراچی میں بند کیا گیا۔
اسی طرح بدین، ٹھٹو، دادو، لاڑکانو، حیدرآباد اور دیگر شہروں سے عوامی تحریک کی خواتین کی بڑی تعداد کو مقامی لاک اپس سے کراچی کی جیلوں میں منتقل کیا گیا۔

ان قیدی خواتین میں جناب محمد فاضل راہو کی دو بہنیں، ایک بیوی اور دو بیٹیاں شہناز راہو اور حسنہ راہو  بھی گرفتاریاں دینے والوں میں شامل تھیں۔
اسی طرح ٹھٹو سے جناب رسول بخش پلیجو کی دو بہنیں غلام فاطمہ پلیجو اور مریم پلیجو نے بھی گرفتاریاں دیں۔

ان خواتین کی جرات اور قربانیوں نے ایم آر ڈی تحریک میں عوامی تحریک اور صوبہ سندھ کو نمایاں کر دیا۔
دنیا بھر کے اخبارات، خصوصاً پاکستانی انگریزی اخبار نے اس نئے پہلو پر مضامین شائع کیے۔
اخبار دی مسلم کے ایڈیٹر مشاہد حسین نے ایم آر ڈی تحریک کا جائزہ لینے کے لیے افضل محمود، عابد زبیری اور ارشاد احمد حقانی کے ہمراہ گاؤں گاؤں کا دورے کیئے اور اپنے اداریوں میں لکھا:

’ایم آر ڈی کی تحریک میں سندھی ہاری کسی پروفیسر سے بہتر بولتے ہیں اور جیلوں میں قید سندھی خواتین اپنے گھروں اور عزیزوں سے جدائی کے باوجود مکمل طور پر عزم و حوصلے سے بھرپور ہیں۔‘

آج جناب محمد فاضل راہو کی صاحبزادی، صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو، ادی شہناز راہو، محمد اسلم راہو کی بہن ادی حسنہ راہو ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہو چکی ہیں۔
ان کے گزر جانے سے مجھے قیدی اور بے حد دلیر حسنہ راہو بہت یاد آئیں۔

ان کے شوہر غلام مرتضیٰ راہو، بچوں اور تمام اہلِ خانہ سے تعزیت کے سوا اور کیا کہا اور لکھا جا سکتا ہے!۔
کہنے کو اب صرف یہی رہ گیا ہے کہ

حسنہ راہو زندہ باد!
ایم آر ڈی تحریک کی خواتین زندہ باد!