• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

گیس فیلڈز سے اربوں کا بھتہ، مقامی لوگ بنیادی سہولیات سے محروم

Bysamaj.com.pk

ستمبر 25, 2025

سندھ کے پاک-بھارت سرحدی گاؤں میں نہ اسپتال نہ اسکول، صرف غربت اور دھوکہ

تحریر: ڈاکٹر برکت نوناری

سن 2016ء میں جب میں ضلع سکھر میں ڈسٹرکٹ پولیو آفیسر کے طور پر آیا تو عرب اور افریقی افسران نے سکھر کو شمالی سندھ کا ہیڈکوارٹر اور نارتھ سندھ پولیو ایمرجنسی ہیڈکوارٹر بنا دیا۔ سکھر کی ریگستانی تحصیل صالح پٹ میں یوں لگتا تھا جیسے پولیو ویکسین پلائی ہی نہیں جاتی تھی، جس کی وجہ ویران علاقے اور چھٹی چھٹی آبادیاں تھیں۔ گاؤں کی سروے کے دوران پتا چلا کہ سکھر-خیرپور بارڈر پر تقریباً ڈیڑھ سو گاؤں مائیکرو پلان میں شامل ہی نہیں ہیں۔

نارتھ سندھ کے انچارج سوڈانی بزرگ ڈاکٹر عمر مکی نے اقوام متحدہ کے جھنڈے والی فور وہیل گاڑی دی۔ سکھر کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر وحید اصغر بھٹی نے پنوعاقل چھاؤنی سے پرمیشن لیٹر لیا، تب پتا چلا کہ یہ گاؤں انڈیا کے بارڈر کے قریب ہیں جہاں سکھر ضلع کی گیس فیلڈ ہے۔

رینجرز کی تین چیک پوسٹیں کراس کرنے اور تلاشی دینے کے بعد آخرکار ان گاؤں تک پہنچا جہاں نہ کوئی اسپتال تھا، نہ اسکول، نہ سڑک، نہ فون کے سگنل اور نہ ہی پینے کا پانی۔ یہ مھنگروں اور بھنبھروں کے گاؤں تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہمارے بزرگ پیر صاحب پگارا کے مرید رہے ہیں، تو فوراً "بھٹو پگارا” کے نعرے لگ گئے اور پورے علاقے میں مجھے مرشد والا پروٹوکول ملا۔

بھنبھروں اور مھنگروں کی حالت دیکھ کر روتا رہا، ان کے پاس کوئی انسانی سہولت نہیں تھی، جبکہ گیس فیلڈ کے ملازمین کو فائیو اسٹار سہولیات میسر تھیں۔ او ایم وی کمپنی خورشید شاہ سمیت صالح پٹ کے شاہوں اور ترائی کے ایک بھنبھری وڈیرے کو کچھ بھتہ دے کر خاموش کر دیتی تھی۔

بارڈر ایریا پہنچتے ہی اقوام متحدہ کی گاڑی میں سائرن بجنے لگے۔ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ سیٹلائٹ فون پر کراچی ہیڈ آفس (یو این ڈی ایس) سے فون آیا کہ آگے جانے کی پرمیشن نہیں ہے۔ سکھر واپس آنا ممکن نہیں، اس لیے خیرپور ضلع کے تجل یا سکندرآباد چلے جائیں۔

جب سکھر واپس آیا تو سندھ کے پروونشل چیف، بنگالی ڈاکٹر یانی نے ہنستے ہوئے کہا:
"شالا، تم کو انڈیا جانا ہے تو ہم کو بولو، ہم تم کو ویزا دلائیں گے۔ ایسی فوجی ایریا میں کیوں گھس گئے تھے؟”

آج خبر ملی ہے کہ گھوٹکی ضلع کی ماری گیس فیلڈ سے ایک مقامی سردار نے تین ارب روپے بھتہ لیا ہے، جس کے بعد مقامی نوجوانوں کو نوکریاں بھی نہیں دی جا رہیں۔