تحریر: ڈاکٹر محمد علی محمدی
یہ 1964ء کا ذکر ہے۔ میں اُس وقت آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور الحمد للہ ہمیشہ پہلی پوزیشن حاصل کرتا تھا۔ درسی کتابوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے سندھی اور اردو رسائل پڑھنا، اخبارات کے بچوں کے صفحات میں لکھنا اور قلمی دوستوں سے خط و کتابت کرنا میرا معمول تھا۔ روزانہ ڈاکخانے جا کر خود ڈاک اکٹھی کرتا تھا۔
اس زمانے میں پنوعاقل میں پوسٹ ماسٹر تھے مسٹر ریاض الرسول قریشی۔ وہ ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب کی مہم کا دور تھا۔ ایک روز قریشی صاحب کسی سے گفتگو میں کہہ رہے تھے کہ مولانا مودودی نے فاطمہ جناح کی حمایت کردی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی کی جماعت اسلامی انتہائی "منظم” ہے۔ اُس وقت میں لفظ منظم کے معنی سے ناواقف تھا، لیکن یہ لفظ میرے لیے تجسس کا باعث بن گیا۔
میٹرک تک جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کو قریب سے جاننے کا موقع نہ ملا۔ 1966ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ میٹرک پاس کرنے کے بعد میں نے گورنمنٹ کالج سکھر میں پری میڈیکل میں داخلہ لیا۔ والد صاحب وہاں وکالت کرتے تھے اور کوئنز روڈ پر ان کا دفتر اور رہائش تھی۔ دفتر کے سامنے ہی نوائے انقلاب اخبار کا دفتر اور پریس تھا۔ میں وہاں بچوں کا صفحہ ترتیب دیا کرتا تھا۔ ایک دن کسی نے میری میز پر سائیکلو اسٹائل دعوت نامہ رکھ دیا، جس میں بتایا گیا کہ شام کو مولانا مودودی تعمير نو اسکول میں طلبہ سے خطاب کریں گے۔
یوں مجھے منظم لفظ کی حقیقت سمجھ میں آ گئی۔ اُس وقت جماعت اسلامی کا دفتر بھی کوئنز روڈ پر ہی تھا، جو بعد میں والس روڈ منتقل ہوگیا۔ میں اکثر جماعت کے دارالمطالعہ میں اخبارات پڑھنے جایا کرتا تھا، جہاں مرحوم میاں محمد علی صاحب سے علیک سلیک بھی رہتی تھی۔ یاد رہے کہ میرا تعلق اُس وقت بائیں بازو کی طلبہ تنظیم سے تھا، لیکن میاں صاحب نے مجھے بھی جماعت کے ایک اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔
عصر کی نماز کے بعد پروگرام شروع ہوا۔ اُس زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ، حلقۂ جنوب مغربی کے ناظم مرحوم احمد جمال اعجازی صاحب تھے۔ مولانا مودودیؒ تشریف لائے اور مختصر مگر پراثر خطاب کیا۔ بعد میں طلبہ نے سوالات پرچیاں لکھ کر بھیجے۔ مولانا نے مدلل اور سادہ انداز میں جوابات دے کر سب کو مطمئن کر دیا۔
یہ میری مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے پہلی ملاقات تھی۔ آگے چل کر کئی مرتبہ تفہیم القرآن کے سندھی ترجمے کے سلسلے میں اچھرہ جاکر ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ 17 دسمبر 1973ء کو میں نے مولانا کا تفہیم القرآن (سندھی) کے لیے آڈیو انٹرویو بھی کیا۔ اسی طرح لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں منعقدہ تکمیلِ تفہیم القرآن کے پروگرام میں بھی شریک ہوا۔
مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی نماز جنازہ میں شریک ہوا، جو کراچی ایئرپورٹ پر ادا کی گئی تھی۔
یادِ مودودیؒ
22 ستمبر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا یومِ وفات ہے، جبکہ 25 ستمبر اُن کا یومِ ولادت ہے۔ آج پوری دنیا میں مولانا کی فکر گونج رہی ہے، جو ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی، جو آج بھی اسلامی فکر، عملی جدوجہد، جمہوری روایات اور عوامی حقوق کی حفاظت میں سرگرم عمل ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ کی رحمتیں ہوں آپ پر کروڑوں بار، سید مودودیؒ۔