نئی دہلی (ڈیسک نیوز) بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’تہذیبی طور پر سندھ ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گا‘‘ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ جغرافیائی سرحدیں مستقل نہیں ہوتیں۔
یہ بات انہوں نے اتوار کے روز نئی دہلی میں ’’سندھی سماج سمیلن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج سندھ کی سرزمین چاہے بھارت کا حصہ نہیں ہے، لیکن تہذیبی طور پر یہ ہمیشہ بھارت کا حصہ رہے گی۔ اور جہاں تک زمین کا تعلق ہے، سرحدیں بدل سکتی ہیں۔ کون جانتا ہے، کل کو سندھ دوبارہ بھارت میں واپس آ جائے۔‘‘
موجودہ پاکستان کا صوبہ سندھ، بھارتی سندھی برادری کی آبائی سرزمین ہے، جو بھارت کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ سندھ ہی وہ خطہ ہے جہاں موھن جو دڑو سمیت وادیِ سندھ کی قدیم تہذیب وجود میں آئی۔
دفاعی وزیر نے بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن (ایل کے) اڈوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھی ہندو آج بھی تقسیمِ ہند کے دہائیوں بعد اس خطے سے جذباتی و ثقافتی وابستگی رکھتے ہیں۔
اڈوانی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس نسل کے بہت سے سندھی ہندو اب تک سندھ کی بھارت سے علیحدگی کو دل سے قبول نہیں کر پائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تاریخ میں سندھ کے بہت سے مسلمان بھی دریائے سندھ کے پانی کو مقدس سمجھتے تھے۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’میں لال کرشن اڈوانی کا یہاں ذکر کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا کہ سندھی ہندو، خاص طور پر ان کی نسل کے لوگ، آج بھی سندھ کی جدائی کو قبول نہیں کر سکے۔ نہ صرف سندھ بلکہ پورے بھارت میں ہندو دریائے سندھ کو مقدس سمجھتے ہیں۔ سندھ کے بہت سے مسلمان بھی اس دریا کے پانی کو آبِ زمزم جتنی تقدیس دیتے ہیں۔‘‘
ثقافتی رشتوں کا ذکر دہراتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’سندھ کے لوگ چاہے آج وہ کہیں بھی رہتے ہوں، ہمیشہ ہمارے اپنے رہیں گے‘‘۔