• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

پاکستان ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن کے تحت "تعلیمی نظام اور عصری تقاضے” سیمینار کا کامیاب انعقاد

Bysamaj.com.pk

نومبر 17, 2025

پاکستان ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن سندھ (PARSA) سندھ کے کالجوں اور سیکنڈری اسکولز کے پی ایچ ڈی اور ایم فل ریسرچ اسکالرز کی واحد نمائندہ ایسوسی ایشن ہے۔ یہ ایسوسی ایشن 2015 سے ریسرچ اسکالرز کے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے۔

پاکستان ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن سندھ کے زیر اہتمام سندھ سیمینار 2025 کا انعقاد 25 اکتوبر 2025ء کو گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن میں کیا گیا۔ سیمینار کا عنوان "تعلیمی نظام اور عصری تقاضے” تھا، جس میں سندھ بھر سے کثیر تعداد میں اسکالرز نے شرکت کی۔ سیمینار کی صدارت محترم ڈاکٹر جنرل کالجز سندھ، پروفیسر ڈاکٹر نوید رب صدیقی نے کی۔ مہمانانِ اعزازی میں ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی ریجن پروفیسر قاضی ارشد حسین اور گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن کے پرنسپل جناب ظہور احمد شامل تھے۔

پروگرام کا آغاز 11 بجے ہوا، جس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جسے ڈاکٹر محمد نادر نے پیش کیا۔ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ڈاکٹر عثمان علی ہاشمی نے پیش کی۔

خطبہ استقبالیہ:
پاکستان ریسرچ اسکالرز ایسوسی ایشن سندھ (پارسا) کے نگران صدر ڈاکٹر ظفر فاروقی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور ریسرچ اسکالرز کے چند دیرینہ مطالبات پیش کیے، جن میں شامل ہیں:

  1. پروموشن میں ہونے والی بیس فیصد کٹوتی کو پی ایچ ڈی اور ایم فل اساتذہ میں تقسیم کرنا۔
  2. کالج کے اسکالرز کے پی ایچ ڈی اور ایم فل الاؤنسز میں یونیورسٹی کے مساوی اضافہ کرنا۔
  3. ریٹائرڈ ہونے والے پی ایچ ڈی اور ایم فل اساتذہ کے الاؤنس کو جاری رکھنا۔
  4. اعلیٰ گریڈ میں ایم فل یا پی ایچ ڈی رکھنے والے درخواست گزاروں کو تجربے یا میرٹ میں خصوصی نمبر دینا۔
  5. پی ایچ ڈی اور ایم فل اساتذہ کی سنیارٹی لسٹ الگ سے بنانا۔
  6. بی ایس پروگرام میں متعلقہ مضامین کی ذمہ داری پی ایچ ڈی اور ایم فل اساتذہ کو سونپنا اور انچارج شپ کا مناسب مشاہرہ دینا۔
  7. ہر گریڈ کے پروموشن میں ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کو فوقیت دینا۔

سیمینار میں چھ تحقیقی مقالے پیش کیے گئے، جن میں حاضرین نے گہری دلچسپی لی اور اسے تعلیمی تبدیلیوں کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ مقالہ نگاروں میں شامل تھے: پروفیسر عطا حسین لاکھو، پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود صدیقی، پروفیسر کشور سلطانہ، پروفیسر کہکشاں نجم، پروفیسر سارہ، اور ڈاکٹر ارم حسن۔

مقالوں کا خلاصہ:

  • پروفیسر کہکشاں نجم: بین المضامینی نقطہ نظر کے تعلیمی نظام میں نفاذ پر زور دیا، جس سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت بڑھتی ہے۔
  • پروفیسر عطا حسین لاکھو: گرین پیڈاگوجیز اور سندھ کے "ڈی آر آر نصاب انضمام فریم ورک” کا تنقیدی جائزہ پیش کیا اور نصاب میں ماحولیاتی تعلیم کے عملی انضمام پر زور دیا۔
  • پروفیسر ڈاکٹر ارشد محمود صدیقی: کراچی کے کالجوں میں بی ایس پروگرام میں پی ایچ ڈی اسکالرز کی ذمہ داریوں اور تدریس و تحقیق میں توازن کے مسائل بیان کیے۔
  • پروفیسر کشور سلطانہ: پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر مقالہ پیش کیا۔
  • پروفیسر سارہ: سندھ کے تمام کالجوں میں چار سالہ بی ایس پروگرام کے آغاز اور اس کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
  • ڈاکٹر ارم حسن: ورچوئل لیبز اور آن لائن اسائنمنٹس کے نفاذ کے ذریعے عملی تعلیم اور طلبہ کی شمولیت بڑھانے کی تجویز پیش کی۔

خطبہ صدارت:
سیمینار کے صدر ڈاکٹر نوید رب صدیقی نے PARSA کی کوششوں کی تعریف کی اور اسکالرز کی تحقیقی و علمی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ PARSA کے بانی پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد خان نے PARSA کے قیام اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ سیمینار کے آخر میں PARSA کے 7 مطالبات قرارداد کی شکل میں منظور کیے گئے اور تمام اسکالرز نے انہیں ہاتھ اٹھا کر منظور کیا۔

مقالہ نگاروں کو ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ نے سرٹیفیکیٹ دیے، اور نگران صدر ڈاکٹر ظفر فاروقی نے ڈی جی صاحب کو مہمان اعزازی کی شیلڈ پیش کی۔