• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

نئے صوبوں کا شور، اصل اصلاحات سے فرار، کیا واقعی پاکستان کو تقسیم کی ضرورت ہے؟

Bysamaj.com.pk

دسمبر 2, 2025

تحریر: محبوب انصاری

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ کاروباری حلقے، چند میڈیا گروپس اور بڑے شہروں کے بااثر افراد یہ مؤقف پیش کر رہے ہیں کہ ملک کی ترقی چھوٹے صوبوں کے بغیر ممکن نہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پاکستان کے مسائل؛ غربت، صحت، تعلیم اور بے روزگاری کی بنیادی وجہ صرف چار صوبوں کا نظام ہے، لہٰذا ملک کو تیس یا اس سے زیادہ انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صوبوں کی تعداد بڑھانے سے یہ مسائل واقعی ختم ہو جائیں گے، یا یہ بحث بھی محض ایک نعرہ بن کر ہمارے سیاسی و سماجی زخموں پر مزید نمک پاشی کرے گی؟

یہ ساری گفتگو بظاہر غیر سیاسی انداز میں پیش کی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم کوئی سیاسی جماعت نہیں، بلکہ عوامی رائے تشکیل دے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بحث عوام کے درمیان نہیں بلکہ بند دروازوں کے پیچھے کاروباری شخصیات، طاقتور حلقوں کے نمائندوں اور بااثر افراد کے ساتھ ہوتی ہے۔ اسے غیر سیاسی کہنا دراصل خود ایک سیاسی بیان ہے۔ عوامی رائے ٹی وی اسکرینوں پر نہیں بنتی، نہ ڈرائنگ رومز کی گفتگو سے جنم لیتی ہے۔ عوامی رائے گلیوں، اسکولوں، یونیورسٹیز، محنت کشوں، ہاریوں، محروم طبقات، محکوم دہاتیوں اور محروم شہروں میں پروان چڑھتی ہے، جہاں ریاست آج تک بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر سکی۔

ہمارے مسائل کی تشخیص درست ہے۔ پاکستان میں تعلیم زبوں حال ہے، صحت کے بجٹ پر افسوس کیا جاتا ہے، ساڑھے دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، 44 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کا حل صوبوں کی تعداد بڑھانا ہے؟ یا یہ مسائل ناقص حکمرانی، وسائل کی غیر شفاف تقسیم، کرپشن، طبقاتی ڈھانچے اور اختیارات کے بے جا ارتکاز سے پیدا ہوئے ہیں؟ ہم اس اصل سوال کو اس لیے نظر انداز کرتے ہیں کہ اس کا جواب نظام کی تبدیلی سے جڑا ہے اور اقتدار کے ایوان کبھی خود کو نہیں بدلتے، البتہ نقشے ضرور بدل دیتے ہیں۔

پاکستان کا اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ اختیارات کا مرکزیت پسند ڈھانچہ ہے۔ جب تک اختیارات ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، چاہے ملک میں 4 صوبے ہوں یا 33، ہر صوبہ ایک چھوٹی بادشاہت بن جائے گا۔ جس طرح آج ایک وزیر اعلیٰ صوبے کا مطلق حکمران سمجھا جاتا ہے، اسی طرح 33 وزیر اعلیٰ بھی چھوٹے مطلق العنان حکمران بن جائیں گے۔ آج اگر ایک صوبہ وسائل نگل جاتا ہے تو کل 33 ایسا کریں گے۔ نہ جوابدہی پیدا ہوگی، نہ شفافیت، بس کرسیوں کا اضافہ ہوگا اور عوام کے پیسے پر مزید بوجھ بڑھے گا۔

نئے صوبوں کے حامی یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ بھارت میں ریاستوں کے اضافے سے حکمرانی بہتر ہوئی۔ لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ بھارت نے صوبے بنانے سے پہلے مقامی حکومتوں کو غیر معمولی طور پر مضبوط کیا۔ تعلیم، صحت، پانی، پولیس، ٹیکس سب اختیارات تعلقہ / تحصیل، پنچایت اور ولیج کونسلوں تک منتقل کیے گئے۔ چین میں ترقی کا راز بھی انتظامی تقسیم سے پہلے مضبوط مقامی اداروں میں ہے۔ جبکہ پاکستان میں بلدیاتی نظام صرف آمریت کے ادوار میں چلتا ہے اور جمہوریت آتے ہی اسے ختم کر دیا جاتا ہے۔

کراچی کی مثال بھی اسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کراچی کو اس کا حصہ نہیں ملتا، اس لیے اسے الگ صوبہ ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کراچی کے مسائل کا حل سندھ سے الگ ہونا ہے یا سندھ کے اندر وسائل کی منصفانہ تقسیم؟ کیا کراچی کے بچے، پسماندہ سندھ کے بچوں سے مختلف نصیب رکھتے ہیں؟ کیا کراچی کے اسپتال مثالی ہیں؟ کیا کراچی کے سرکاری اسکول بہتر ہیں؟ کیا کراچی میں غریب بستیاں موجود نہیں، بالکل ویسی ہی جیسے تھر، دادو، بدین یا ٹھٹھہ میں؟

کراچی الگ صوبہ نہیں چاہتا، کراچی انصاف، شفافیت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتا ہے۔ کراچی سندھ کی طاقت ہے اور سندھ کراچی کی شناخت۔ دونوں کو الگ کرنا قومی وحدت نہیں بڑھائے گا بلکہ لسانی تناؤ اور سیاسی ٹکراؤ کو جنم دے گا، جس کا فائدہ صرف اشرافیہ اور طاقتور طبقات اٹھائیں گے، عوام نہیں۔

نئے صوبوں سے متعلق ایک اور غلط فہمی یہ بھی پھیلائی جا رہی ہے کہ اس سے اخراجات کم ہوں گے۔ یہ دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ جب ہم موجودہ صوبائی ڈھانچہ نہیں چلا پا رہے تو 33 الگ حکومتیں کیسے چلائیں گے؟
33 گورنر، 33 کابینائیں، 33 اسمبلیاں، سینکڑوں سیکریٹری، دفاتر، پروٹوکول، گاڑیاں، مراعات! یہ سارا خرچ کہاں سے آئے گا؟ عوام کی جیب سے اور مزید قرضوں سے۔ کیا یہی ترقی ہے یا عوام پر بوجھ بڑھانے کا ایک اور حربہ؟

پاکستان کو صوبوں کی تقسیم نہیں چاہیے۔ پاکستان کو مضبوط، شفاف اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہیے۔ جو ضلع، تحصیل اور یونین کونسل تک اختیارات منتقل کرے۔ کراچی سے کشمور، کوئٹہ سے گوادر، لاہور سے ملتان، پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان، وانا، وزیرستان اور گلگت-بلتستان تک ہر شہری کو مقامی سطح پر تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے فیصلوں میں شامل ہونے کا حق چاہیے۔ اسی سے میرٹ پیدا ہوگا، اسی سے عوامی قیادت ابھرے گی، اسی سے بدانتظامی ختم ہوگی۔

نئے صوبوں کی بحث دراصل حقیقی اصلاحات سے توجہ ہٹانے کا ایک طریقہ ہے۔ اصل مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے۔ جب تک اس دیوار کو نہیں گرایا جائے گا، چاہے نقشہ سو بار بدل دیں، عوام کی زندگی نہیں بدلے گی۔ پاکستان کو ٹکڑوں میں نہیں، اداروں میں مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صوبے نہیں، انصاف چاہیے۔ تقسیم نہیں، اختیار چاہیے۔ نقشے نہیں، نظام چاہیے۔ یہی اصل اصلاح ہے اور یہی پاکستان کی بقا کا راستہ۔