کراچی (سماج نیوز) روزنامہ کوشش کراچی کے بیورو چیف، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رکن اور سندھ اسمبلی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اطلاعات سیکریٹری، سینئر صحافی لیاقت عباسی کے بڑے بھائی، معروف ادیب و شاعر ممتاز عباسی کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر کے ان کی سفید ٹویوٹا کرولا ماڈل GLi 2019 (رجسٹریشن نمبر BRG-438) چھین لی۔
واقعہ گلستانِ جوہر بلاک 11 میں تھانہ شاہراہِ فیصل کی حدود میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا۔ ممتاز عباسی کے مطابق وہ بہادرآباد سے گروسری اور دیگر سامان خرید کر گھر پہنچے ہی تھے کہ ایک مشکوک گاڑی نے ان کا تعاقب کیا اور ان کی گاڑی کے آگے آ کر رک گئی۔
گاڑی میں سوار تین نامعلوم اسلحہ بردار ملزمان میں سے دو نے اتر کر ممتاز عباسی کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنایا اور ان ہی کی گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔ متاثرہ نے بتایا کہ ملزمان نے انہیں گاڑی کی پچھلی نشست پر سر جھکائے رکھا جبکہ دوسرا ملزم ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ہوئے تھا۔
تقریباً بیس منٹ بعد، رات چار بجے کے قریب، ملزمان نے انہیں سہراب گوٹھ، مین سپر ہائی وے پر تاج محل پیٹرول پمپ کے قریب اتار دیا اور گاڑی سمیت فرار ہو گئے۔ ممتاز عباسی کے مطابق انہوں نے فوری طور پر پولیس مددگار 15 پر اطلاع دی، تاہم پولیس تاخیر سے پہنچی اور صرف رسمی کارروائی کے بعد واپس چلی گئی۔
واقعے کی ابتدائی رپورٹ کے اندراج کے لیے تھانہ شاہراہِ فیصل سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، سندھ اسمبلی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد نیاز کھوکھر، سیکریٹری عارف حسین ہاشمی اور گورننگ باڈی کے ارکان سمیت صحافتی و ادبی حلقوں نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کراچی میں اب کوئی معزز شہری اپنے گھر کی دہلیز پر بھی محفوظ نہیں رہا۔”
رہنماؤں نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، مغوی کی گاڑی برآمد کرنے اور ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قرارِ واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ شہریوں اور صحافتی برادری میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔