• منگل. جون 2nd, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

کیرالا میں لیفٹ کی تاریخی شکست

Bysamaj.com.pk

مئی 8, 2026

تحریر: آفتاب چانڈیو

ہندستان کے 2026 کے ریاستی انتخابات میں LDF (لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ) کی شکست محض ایک انتخابی ہار نہیں بلکہ ہندوستانی پارلیمانی کمیونزم کے گہرے بحران کی علامت ہے۔ یہ وہ آخری بڑی ریاست تھی جہاں کمیونسٹ پارٹیاں، خاص طور پر CPI(M)، اب بھی اقتدار میں موجود تھیں۔ مغربی بنگال (2011) اور تریپورہ (2018) کے بعد کیرالا میں شکست نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ ہندوستان میں کمیونسٹوں کے ریاستی اقتدار کا ایک پورا تاریخی دور اختتام کو پہنچ چکا ہے۔
اس شکست کو صرف “اینٹی اِنکمبینسی”، کرپشن یا حکومتی تھکاوٹ سے سمجھنا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے گہرے سیاسی، طبقاتی، تنظیمی اور نظریاتی عوامل کارفرما ہیں۔
کیرالا میں کمیونسٹ تحریک کا عروج ایک حقیقی عوامی اور طبقاتی تحریک کے طور پر ہوا تھا۔ 1957 میں EMS نمبودری پاد کی قیادت میں دنیا کی پہلی جمہوری طور پر منتخب کمیونسٹ حکومت نے زمین اصلاحات، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ اسی دور نے “کیرالا ماڈل” کی بنیاد رکھی، جس کی وجہ سے کم آمدنی کے باوجود انسانی ترقی کے اشاریے بلند ہوئے۔
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ CPI(M) اور Left Front ایک انقلابی عوامی تحریک سے زیادہ ایک پارلیمانی اور انتظامی مشین بنتے گئے۔ ریاستی اقتدار میں طویل موجودگی نے پارٹی کے اندر بیوروکریسی، قیادت کی مرکزیت اور تنظیمی جمود کو بڑھایا۔ پینارائی وجین کے دور میں یہ رجحان مزید نمایاں ہوا۔ پارٹی کے اندر اختلافات کمزور پڑتے گئے اور اقتدار چند افراد کے گرد مرتکز ہوتا گیا۔ نتیجتاً پارٹی کی وہ عوامی اور متحرک شناخت متاثر ہوئی جو کبھی مزدوروں، کسانوں اور نچلے طبقات کی نمائندہ سمجھی جاتی تھی۔
معاشی بحران بھی اس شکست کا ایک بڑا سبب بنا۔ کیرالا کا ترقیاتی ماڈل سماجی شعبوں میں کامیاب ضرور تھا، مگر صنعت، پیداوار اور روزگار کے سوال پر اس کی حدود واضح ہوتی گئیں۔ ریاست کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر، خدماتی شعبے اور قرضوں پر انحصار کرتی رہی۔ نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھتی گئی، زرعی بحران برقرار رہا، جبکہ سرکاری قرض خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ Left حکومت عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہی کہ وہ سرمایہ دارانہ بحران کا کوئی حقیقی متبادل پیش کررہی ہے۔ یوں وہ ایک “بہتر منتظم” تو دکھائی دی، مگر ایک تبدیلی لانے والی قوت نہیں۔
اس شکست کا ایک اہم نظریاتی پہلو بھی ہے۔ BJP کے عروج کے بعد LDF نے بعض مواقع پر ہندو ووٹ بینک کو متوجہ کرنے کی کوشش کی، جس سے مسلم اور عیسائی اقلیتوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ اقلیتی طبقات کو محسوس ہونے لگا کہ Left ان کے سیاسی تحفظ اور نمائندگی کے سوال پر غیر واضح ہورہا ہے۔ نتیجتاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے ووٹ بڑی تعداد میں UDF اور خاص طور پر انڈین یونین مسلم لیگ کی طرف منتقل ہوگئے۔
یہ صرف مذہبی شناخت کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ سیاسی اعتماد کا بحران بھی تھا۔ UDF نے خود کو ایک زیادہ منظم، نرم اور “عملی” متبادل کے طور پر پیش کیا۔ اس نے فلاحی وعدوں، مضبوط مقامی اتحادوں اور اقلیتی سماجی نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ دوسری جانب LDF کے اندر تنظیمی تھکاوٹ، باغی امیدواروں اور اندرونی اختلافات نے اس کی کمزوری کو مزید بڑھایا۔
BJP کا بڑھتا ہوا اثر بھی اہم ہے۔ اگرچہ BJP اب بھی کیرالا میں اقتدار سے دور ہے، لیکن اس کے عروج نے کیرالا کی روایتی دو جماعتی سیاست (LDF بمقابلہ UDF) کو متاثر کیا ہے۔ BJP نے ہندو متوسط طبقے اور بالادست ذاتوں میں اپنی جگہ بنائی، جس سے Left کا روایتی سماجی اتحاد کمزور ہوا۔ دوسری طرف BJP کے خوف نے اقلیتی ووٹ کو مزید شدت کے ساتھ UDF کی طرف دھکیلا
دیکھا جائے تو یہ بحران صرف کیرالا تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں روایتی کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیاں اسی مسئلے کا شکار ہوئی ہیں۔ جب کوئی انقلابی پارٹی مکمل طور پر پارلیمانی سیاست، ریاستی اداروں اور انتخابی مفادات میں ضم ہوجاتی ہے تو اس کی انقلابی روح، نظریاتی وضاحت اور عوامی تحریکی قوت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ نتیجتاً وہ یا تو سوشل ڈیموکریٹک انتظامی جماعت بن جاتی ہے یا بیوروکریسی، کرپشن اور موقع پرستی کا شکار ہوجاتی ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کیرالا کے Left کی تاریخی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ زمین اصلاحات، خواندگی، صحت اور سماجی مساوات کے میدان میں اس کا کردار غیرمعمولی رہا ہے۔ آج بھی کیرالا انسانی ترقی کے بیشتر اشاریوں میں ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے آگے ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ماڈل نئی معاشی اور سیاسی تبدیلیوں کے دور میں اپنی توسیع اور تجدید کی صلاحیت کھوتا گیا۔ لہٰذا 2026 کی شکست کو “کمیونزم کی ناکامی قرار دینا سطحی تجزیہ ہوگا، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی پارلیمانی Left شدید نظریاتی، تنظیمی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ کیرالا کے نتائج یہ واضح کرتے ہیں کہ صرف انتخابات جیتنا، فلاحی اسکیمیں چلانا یا ریاستی انتظام سنبھالنا کسی کمیونسٹ سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ اس کے لیے مسلسل طبقاتی جدوجہد، عوامی تحریک، نظریاتی وضاحت، اندرونی جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف واضح متبادل ناگزیر ہے۔