• پیر. مارچ 2nd, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا 55واں اجلاس، عدالتی اصلاحات، انصاف کی فراہمی اور خود مختاری پر زور

Bysamaj.com.pk

اکتوبر 17, 2025

اسلام آباد (سماج نیوز) — چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (NJPMC) کا 55واں اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی، جبکہ اٹارنی جنرل فار پاکستان خصوصی دعوت پر شریک ہوئے۔
کمیٹی نے پالیسی نوعیت کے اہم امور پر غور کیا اور پچھلے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا۔

اجلاس میں ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے، عوام کو فوری انصاف کی فراہمی میں بہتری، اور عدالتی نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اہم نکات:

  • جبری گمشدگیوں کے کیسز کے حل کے لیے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم سے حراست میں لیے گئے افراد کو 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
  • عدالتی خود مختاری کے تحفظ کے لیے چیف جسٹس نے جج صاحبان پر بیرونی دباؤ کے انسداد کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ میں ترامیم تجویز کیں، جنہیں متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
  • تجارتی مقدمات (Commercial Litigation Corridor) کے لیے ذیلی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا تاکہ غیر ضروری مقدمات کو کم کیا جا سکے۔
  • ڈبل ڈاکٹ کورٹ نظام کے آغاز کو سراہا گیا، خصوصاً پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے ایبٹ آباد میں قائم پہلی عدالت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
  • ماڈل کورٹس کے قیام سے زیرِ التواء مقدمات کے تیز تر فیصلے ممکن ہوئے — لاہور ہائی کورٹ نے صرف 45 دن میں 12,278 مقدمات نمٹائے۔
  • ضلع عدلیہ اصلاحات کے لیے ایک جامع تربیتی اور کارکردگی مانیٹرنگ نظام تجویز کیا گیا۔
  • قیدیوں کے اصلاحی پروگرام (Prison Reforms) پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ اسلام آباد ماڈل جیل کی تکمیل پر زور دیا گیا۔
  • کمیٹی نے عدلیہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے اخلاقی استعمال کے لیے رہنما اصولوں کو سراہا اور ان کی حتمی منظوری آئندہ اجلاس میں دینے کی ہدایت کی۔
  • ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے منصوبے پر وزارتِ آئی ٹی نے بریفنگ دی، جس میں ضلعی عدالتوں کو ڈیجیٹل نظام سے جوڑنے کا روڈ میپ پیش کیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس آف پاکستان نے تمام ہائی کورٹس، وزارتِ قانون و انصاف اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن سیکریٹریٹ کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدامات اداروں کے باہمی تعاون، شفافیت اور عوامی اعتماد کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔