اسلام آباد (سماج نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان و چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت لاء اینڈ جسٹس کمیشن کا 46واں اجلاس سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں کریمنل پروسیجر کوڈ اور فیملی لاز میں اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ عدالتی نظام کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مؤثر بنایا جا سکے۔
کمیشن نے کہا کہ یہ اصلاحات قانونی کارروائیوں کو تیز اور شفاف بنانے، شہریوں کے حقوق کے تحفظ، اور انصاف کی فراہمی میں شفافیت کو یقینی بنائیں گی۔
اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس، تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، اٹارنی جنرل فار پاکستان، سیکریٹری وزارت قانون و انصاف، اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی عبوری چیئرپرسن نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ معروف ماہرین قانون خواجہ حارث احمد، کامران مرتضیٰ اور محمد منیر پراچہ ایڈووکیٹس بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
کمیشن نے فیملی لاز میں مجوزہ ترامیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں خاندانی تنازعات کے فوری حل اور فیملی کورٹس کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنیں گی۔
مزید کہا گیا کہ قانونِ شہادت آرڈر 1984 میں بھی ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی سے حاصل شدہ شواہد کو قانونی طور پر قابلِ قبول بنایا جا سکے۔
کمیشن نے متضاد عدالتی فیصلوں کے مسئلے پر بھی غور کیا اور کہا کہ اس طرح کے فیصلے نظامِ عدل میں ابہام پیدا کرتے ہیں، لہٰذا نظیر (precedent) کے اصول پر سختی سے عمل ضروری ہے۔
اجلاس میں LJCP ملازمین کے مجوزہ سروس رولز 2025 پر بھی بات ہوئی، جس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور محمد منیر پراچہ ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
اس سے قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایکسیس ٹو جسٹس ڈیولپمنٹ فنڈ (AJDF) کے گورننگ باڈی کے 21ویں اجلاس کی بھی صدارت کی، جس میں فنڈ کی کارکردگی اور گزشتہ فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 2005 سے اب تک 904.7 ملین روپے ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی ترقی کے لیے اور 166.5 ملین روپے پسماندہ اضلاع میں خصوصی منصوبوں پر خرچ کیے گئے۔
تاہم گزشتہ 14 ماہ (جولائی 2024 تا ستمبر 2025) کے دوران 1,462.3 ملین روپے عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے جاری کیے گئے، جب کہ 151 ملین روپے پسماندہ علاقوں کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے LJCP سیکریٹریٹ کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور عدلیہ کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے تسلسل کو خوش آئند قرار دیا۔