• پیر. مارچ 2nd, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

سندھ کابینہ کا اجلاس: سیلابی صورتحال کا جائزہ، مالی و عدالتی اصلاحات سمیت بڑے فیصلے

Bysamaj.com.pk

ستمبر 25, 2025

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ میں تعلیم، صحت، ثقافت، ٹیکسیشن اور ٹرانسپورٹ سیفٹی سے متعلق اصلاحات کی منظوری

کراچی (23 ستمبر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کابینہ کے ایک اہم اجلاس میں صوبے کی سیلابی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے محکموں کی مربوط کاوشوں کو سراہا، جبکہ کابینہ نے مالیاتی نظم و نسق، اصلاحی مراکز، عدالتی عمل، ثقافتی فروغ، زرعی معائنہ، ٹیکسیشن اصلاحات اور سڑکوں کی حفاظت سے متعلق بڑے فیصلوں کی منظوری دی۔

یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

وزیراعلیٰ نے اجلاس کے آغاز میں بتایا کہ سندھ گزشتہ چھ ہفتوں سے سیلابی خطرے کی زد میں رہا۔ پہلی لہر کے دوران 24 اگست کو گڈو بیراج پر 5 لاکھ 34 ہزار کیوسک پانی آیا، جس کے بعد سکھر پر 4 لاکھ 81 ہزار اور کوٹری پر 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری لہر 15 ستمبر کو 6 لاکھ 35 ہزار کیوسک پر پہنچی۔ اگرچہ پیش گوئی کے مطابق 11 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان تھا، مگر بروقت اقدامات سے صورتحال پر قابو پایا گیا۔

528 منصوبہ بند ریلیف کیمپوں میں سے صرف 17 فعال کیے گئے، جن میں ایک لاکھ 92 ہزار سے زائد متاثرہ افراد کو پناہ دی گئی۔ محکمہ صحت نے 145 میڈیکل کیمپوں میں ایک لاکھ 34 ہزار مریضوں کا علاج کیا، جبکہ محکمہ لائیو اسٹاک نے 16 لاکھ مویشیوں کو ویکسین فراہم کی۔ وزیراعلیٰ نے وزیرآبپاشی جام خان شورو، سیکریٹری ظریف کھیڑو، وزراء، ارکان اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ کی فیلڈ میں موجودگی کو سراہا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آئندہ مون سون مزید شدید ہو سکتے ہیں، اس لیے ’’ماحولیاتی حقائق‘‘ کے مطابق تیاری ناگزیر ہے۔

کابینہ نے سندھ فنانشل رولز 2023 اور ڈیلیگیشن آف فنانشل پاورز رولز میں ترامیم کی منظوری دی۔ اب بقایاجات کے دعووں کی جانچ متعلقہ محکماتی کمیٹیاں کریں گی تاکہ تاخیر کم ہو، البتہ 10 سال سے زائد پرانے دعووں کی منظوری بدستور محکمہ خزانہ ہی دے گا۔

اہم پیش رفت کے طور پر 34 ہزار 106 اسکولوں کو لاگت مراکز کے تحت مالی خودمختاری دی گئی، جس سے ہیڈ ماسٹرز کو براہِ راست آپریشنل فنڈز تک رسائی حاصل ہو گی۔ مزید برآں، مختیارکاروں کو بھی مالی اختیارات دیے جائیں گے۔ اس اقدام کا آغاز مٹیاری اور سکھر میں زمینوں کی ڈیجیٹائزیشن کے پائلٹ پروگرام سے ہوگا، جہاں انہیں 2 لاکھ روپے تک کے اخراجات کی اجازت ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے اسے نچلی سطح پر خدمات کی فراہمی میں انقلابی قدم قرار دیا۔

عدالتی و اصلاحی اقدامات
کابینہ نے سندھ جیل و اصلاحی خدمات کے تحت ٹھٹھہ میں 250 قیدیوں پر مشتمل نئی ڈسٹرکٹ جیل و اصلاحی سہولت فعال کرنے کی منظوری دی تاکہ جیلوں میں بھیڑ کم کی جا سکے۔ مزید یہ کہ انسداد دہشت گردی کی 13 عدالتوں کو منشیات سے متعلق مقدمات سننے کے لیے خصوصی عدالتوں کا درجہ دیا گیا، جبکہ مستقل عدالتوں کے قیام تک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز اور جوڈیشل مجسٹریٹس کو یہ اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔

ثقافت و سیاحت کا فروغ
ثقافت، سیاحت، نوادرات اور آرکائیوز کے محکمے کو وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں سندھی ثقافت کا عالمی فروغ، سیاحتی خدمات کی ریگولیشن، پیشہ ورانہ تربیت، مخطوطات کی ڈیجیٹائزیشن، آثارِ قدیمہ کا تحفظ اور زبان کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ محکمہ اب سندھی لینگویج اتھارٹی، سندھ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور سندھ بورڈ آف فلم سینسرز کی نگرانی بھی کرے گا۔

زرعی اور ٹیکس اصلاحات
کابینہ نے 9 کروڑ 99 لاکھ روپے کی لاگت سے 10 موبائل ٹیسٹنگ وینز خریدنے کی منظوری دی۔ یہ منصوبہ ’’معائنہ کے لیے موبائل ٹیسٹنگ یونٹس‘‘ کے تحت ہوگا، جس سے پیمائش اور ترازو کی موقع پر تصدیق ممکن ہوگی۔ یومیہ معائنوں کی تعداد 10 سے بڑھا کر 35 کر دی جائے گی، جو ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں انجام پائیں گے۔

ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے سندھ ریونیو بورڈ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو، پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ساتھ یادداشتوں پر دستخط کرنے کی اجازت دی گئی تاکہ ڈیٹا شیئرنگ اور کمپنی رجسٹریشن کا انضمام ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ درجہ بندی کے کوڈز ہم آہنگ کرنے کے لیے نو ترمیمی نوٹیفکیشنز بھی منظور کیے گئے ہیں۔

ٹرانسپورٹ سیفٹی
کابینہ نے سندھ بھر میں 10 ہیوی وہیکل فٹنس مراکز قائم کرنے کی منظوری دی، جن میں پانچ کراچی اور باقی ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ہوں گے۔ یورپی معیار کے جدید آلات کے ذریعے یہ اقدام ٹرانسپورٹ کی حفاظت بہتر بنانے، حادثات کم کرنے اور قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی کہ وہ شفاف طریقے سے اس منصوبے کے لیے کمپنی کا انتخاب کرے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی لچک، مالی بااختیاری، عدالتی اصلاحات، ثقافتی فروغ، زرعی نگرانی، ڈیجیٹل ٹیکس نظام اور سڑکوں کی حفاظت کو یکجا کرتے ہوئے شفاف حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔