کراچی (24 ستمبر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے امریکا کی نگران ناظمہ الامور نیتالی ایشٹن بیکر نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں سیلابی صورتحال، غذائی تحفظ، توانائی و سلامتی کے تعاون، کیٹی بندر پورٹ منصوبہ اور سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمین، پولیٹیکل آفیسر جیرڈ ہینسن اور صوبائی حکام بھی شریک تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کیٹی بندر پورٹ منصوبے کو ’’تاریخ کا پہلا قدرتی بندرگاہ‘‘ اور شہید بینظیر بھٹو کا وژن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پورٹ دباؤ کا شکار ہے، اس لیے نئے بندرگاہ کی فوری ضرورت ہے۔ امریکی ناظمہ نے اعلان کیا کہ بڑی امریکی کمپنیوں کے وفود جلد کراچی آئیں گے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جا سکے۔
توانائی اور صنعتی تعاون پر گفتگو میں تھر کے کوئلے سے گیس، کھاد اور ڈیزل بنانے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ سیلابی صورتحال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ نے ’’سپر فلڈ‘‘ کے لیے بھرپور تیاری کی تھی، تاہم اس سال صورتحال نسبتاً کم سنگین رہی۔
غذائی تحفظ کے حوالے سے مراد علی شاہ نے بتایا کہ گزشتہ سال گندم کی کم کاشت سے مسائل پیدا ہوئے اور درآمدی گندم صوبے کو 40 کلو کے حساب سے 3,800 روپے میں پڑی۔ سلامتی تعاون پر انہوں نے پولیس اصلاحات اور جیلوں کے جدید نظام میں امریکی امداد کو سراہا۔
نیتالی بیکر نے خصوصی افراد، خصوصاً بہرے بچوں کی تعلیم اور تربیت کے منصوبوں میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی ظاہر کی، جس پر وزیراعلیٰ نے سندھ حکومت کی جاری کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تعاون انتہائی قیمتی ہوگا۔