شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کا مزدوروں کے لیے ڈاک لیبر بورڈ کا تحفہ دیا تھا: وقار مہدی
کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا قیام 1974ع میں ایک ایکٹ کے تحت لایا گیا تھا، جنرل سیکریٹری، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ
کراچی (سماج میڈیا گروپ) پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری اور وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی وقار مہدی نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے کراچی ڈاک لیبر بورڈ کو تحلیل کرنا گہنونی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ایماء پر ہونے والا مذکورہ فیصلہ مزدوروں کے خلاف ظالمانہ اقدام اور مزدور دشمنی ہے۔ وقار مہدی نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کو دوسرا کے الیکٹرک بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکام ہوش کے ناخن لیں، کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا قیام 1974ع میں ایک ایکٹ کے تحت لایا گیا تھا۔ کراچی ڈاک لیبر بورڈ کا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کا مزدوروں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ پیپلز پارٹی قائدِ عوام کے بنائے ہوئے مزدور دوست ادارے پر ہونے والے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاک بورڈ کے تحلیل سے 3 ہزار سے زائد مزدوروں کا گذرِ معاش مزدور دشمن افسران کے رحم کرم پر ہوگا۔ ڈاک لیبر بورڈ کے تحلیل جیسے اہم فیصلے سے قبل مزدوروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہ لینا بدنیتی کا ثبوت ہے۔ کے پی ٹی کے مزدور گذشتہ ایک ہفتے سے اپنے حقوق اور روزگار کے تحفظ کی خاطر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کو دوسرا کے الیکٹرک بنانے سے گریز کیا جائے، کے الیکٹرک کے قیام سے کراچی سمیت پورے ملک کے عوام کو رتی برابر فائدہ ہوا نہ قومی خزانے کو۔ کے الیکٹرک کی وجہ سے کے ای ایس سی کے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوئے۔ اور کے-الیکٹرک نے کراچی کے عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ کے الیکٹرک کی شکل میں قوم کو خون چوسنے ولا ایک نیا سفید ہاتھی ملا ہے۔ وقار مہدی نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کی انتظامیہ اور وفاقی وزارتِ بحری امور کے ذمہ داران شتر مرغ کی طرح سر ریت میں نہ دبائیں۔ مسئلے کے حل کے لیے قومی اسمبلی کی قائمہ کمٹیی برائے وزارتِ بحری امور کی ہدایات پر من و عن عمل کیا جائے، کراچی پورٹ ٹرسٹ کی انتظامیہ اور وفاقی وزارتِ بحری امور کو اپنے گہنونے ارادے ترک کریں۔ وقار مہدی نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور وفاقی حکومت ملک بھر کے محنت کشوں میں پھیلی بے چینی کا خاتمہ کریں۔