ڈاکٹر محمد علی محمدی
پنوعاقل — 26 اکتوبر 2025ء
کچھ سال پہلے اخبار میں ایک خبر پڑھی تو ایسا لگا جیسے سندھ اور سندھی عوام کو جاگیردار کسی بھی حال میں آزادی سے جینے نہیں دیں گے۔ سندھ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے اگر غیر نہیں تو خود سندھ کے بھوتار (جاگیردار) سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ اکیسویں صدی میں بھی سندھ کو پسماندہ رکھنے اور سندھیوں کا پہیہ پیچھے گھمانے کے لیے گہری سازشیں کی جا رہی ہیں۔
سندھ کے نام نہاد ترقی پسند، سیکولر اور قوم پرست طبقے بھی اس نظام کو برقرار رکھنے میں مزاحمت کے بجائے، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، اسی کے حامی ہیں۔ اس پوسٹ میں میں نے وہی اخباری خبر اور ڈیوڈ چیسمن کی کتاب شامل کی ہے۔ آج کی اسٹیبلشمنٹ اور برطانوی نوآبادیاتی حکومت — دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔
اب یہاں کے جاگیردار چاہے آکسفورڈ یا کیمبرج کے تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں، ان کی ذہنیت اب بھی انیسویں صدی میں اٹکی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے محنت کش، غریبوں کے تعلیم یافتہ بچے اب بھی اس فرسودہ نظام کے پرزے بنے رہیں گے؟ یا وہ کسی انقلابی پروگرام کے تحت ان ظالم طاقتوں سے آزادی حاصل کریں گے؟
نیچے دیا گیا یہ کتاب ہر سیاسی کارکن اور سندھ کے نوجوان کو ضرور پڑھنی چاہیے۔ میں نے یہ کتاب 2009ء میں خریدی تھی۔ یہ نہایت تحقیقی نوعیت کی تصنیف ہے، جس میں انیسویں صدی کے نوآبادیاتی دور میں زرعی زمین کی تقسیم، سندھ کے جاگیردارانہ نظام، اور سندھ کے ہندو سیٹھوں کے پاس زمین گروی رکھنے کے عمل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
سندھ کے دانشور پروفیسر مشتاق میرانی صاحب چند سال قبل پنوعاقل میں میری لائبریری دیکھنے آئے تھے۔ اس کتاب کو دیکھ کر انہوں نے رائے دی تھی کہ اگر انگریز جاگیریں تقسیم نہ کرتے بلکہ عام کاشتکاروں میں زمین تقسیم کرتے، تو آج سندھ سرداروں، وڈیروں، میروں اور پیروں سے آزاد ہوتا، اور سیاسی فضا بالکل مختلف ہوتی۔
زبردست کتاب ہے —
ڈیوڈ چیسمن کی یہ تصنیف پہلی مرتبہ 1997ء میں شائع ہوئی۔ یہ دراصل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ اس میں انہوں نے سندھ کے زمینداروں، جاگیرداروں، وڈیروں، اور سرداروں کی طاقت، اور زمین کے گروی رکھنے کے نظام پر انتہائی معیاری مواد فراہم کیا ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سندھ میں وڈیرانہ نظام اتنا مضبوط تھا کہ کوئی بادشاہت یا حکومت اسے توڑ نہیں سکی۔ انگریزوں نے جاگیرداری ختم کرنے کے لیے فرمان شاہی کا نظام منسوخ کر کے قوانین بنائے، اسکول اور عدالتیں قائم کیں، مگر مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکے، اور بالآخر مجبور ہو کر وڈیروں کو بااختیار بنا دیا گیا۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی ایک وڈیرے کے روپ میں پیش کیا ہے۔
سندھ کے جاگیردارانہ نظام پر کافی مواد دستیاب ہے۔ دو سال پہلے ایک محقق نے 1939ء کی ایک سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیا تھا جو اُس وقت کے کلکٹر برائے جاگیر سندھ نے حکومت کو بھیجی تھی۔ اسے پڑھ کر ایسا لگا کہ سندھ کو صرف غیروں نے نہیں، بلکہ اپنے سرداروں، وڈیروں، پیروں، اور مزارات کے مجاوروں نے بھی لوٹا ہے، جنہوں نے خیراتی جاگیروں کے سہارے اپنی چھوٹی چھوٹی سلطنتیں قائم کر رکھی ہیں۔
یہ کتاب 288 صفحات پر مشتمل ہے اور سندھ کے نظام کی اصل تصویر دکھاتی ہے۔ آج پھر وہی مراعات یافتہ وڈیرے، سیاسی اجارہ داری کے ساتھ، ذہین مگر غریب سندھی نوجوانوں کو سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے باہر دھکیل رہے ہیں۔ اپنے نااہل اولاد — “جانو جرمن” — کے ذریعے وسائل کی لوٹ مار کے بعد اب میرٹ کی پامالی بھی کر رہے ہیں۔ ان میں رشوت سے دولت جمع کرنے والے سابق بیوروکریٹ وڈیرے بھی شریک ہیں۔