گووردھن اسرانی
بھارتی اداکار گووردھن اسرانی (جنہیں عام طور پر “اسرانی” کے نام سے جانا جاتا ہے) کا 84 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ مزاحیہ اداکاری میں اپنی منفرد پہچان رکھنے والے اسرانی کا تعلق سندھی ہندو خاندان سے تھا۔ انہوں نے پچاس سالہ شاندار فنی کیریئر میں 300 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی بہترین اور یادگار ترین اداکاری 1975 کی سپر ہٹ فلم شعلے میں جیلر کے کردار میں دیکھی گئی — ایک ایسا کردار جو بھارتی سنیما کی تاریخ میں امر ہو گیا۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
گووردھن اسرانی یکم جنوری 1941 کو جے پور (ریاست جے پور، برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک درمیانے طبقے کے سندھی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد برصغیر کی تقسیم کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے جے پور میں آباد ہوئے، جہاں انہوں نے قالین فروشی کا کاروبار شروع کیا۔
اسرانی نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ زیویئرز اسکول، جے پور سے حاصل کی اور راجستھان کالج سے گریجویشن مکمل کیا۔ تعلیم کے دوران وہ آل انڈیا ریڈیو جے پور میں بطور وائس آرٹسٹ کام کرتے رہے تاکہ اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کر سکیں۔ بچپن سے ہی ان کی دلچسپی اداکاری میں تھی اور ریڈیو پر کام نے ان کے اندر کے فنکار کو نکھارنے میں مدد دی۔
1960 میں انہوں نے تھیٹر آرٹسٹ ساهتیہ کل بھائی ٹھاکر سے اداکاری سیکھنی شروع کی، اور 1964 میں انہوں نے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا (FTII)، پونے میں داخلہ لیا۔ وہ 1966 میں گریجویٹ ہوئے اور اپنے فنی سفر کا آغاز فلمی دنیا سے کیا۔
فلمی کیریئر
اسرانی نے 1967 میں فلم ہرے کانچ کی چوڑیاں سے ہندی سینما میں قدم رکھا، مگر ان کی اصل پہچان 1975 میں شعلے کے جیلر کے کردار سے بنی۔ یہ کردار ایڈولف ہٹلر کی ایک مزاحیہ پیروڈی تھا، جسے انہوں نے بے مثال توانائی، آواز کے اتار چڑھاؤ، اور مخصوص اندازِ گفتگو سے یادگار بنا دیا۔
انہوں نے اپنے عروج کے دور میں 1970 سے 1980 کے درمیان 100 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں شامل ہیں:
- چپکے چپکے (1975)
- پتی پتنی اور وہ (1978)
- بالیکا بدھو (1976) — فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین مزاحیہ اداکار
- رُوتی، پریم نگر، چھپے چپکے، چھوٹی سی بات، رفو چکّر، انورودھ، چھیلا بابو، پھانسی، ہماری تمہاری، اور پھول کھلے ہیں گلشن گلشن
1970 کی دہائی میں وہ سپر اسٹار راجیش کھنہ کے قریبی دوست بن گئے، جن کے ساتھ انہوں نے 25 سے زائد فلموں میں کام کیا۔
گجراتی اور سندھی فلموں میں کردار
اسرانی نے صرف ہندی فلموں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ گجراتی اور سندھی فلموں میں بھی نمایاں کردار ادا کیے۔ ان کی چند مشہور گجراتی فلمیں درج ذیل ہیں:
- اَمدآواد نو رکشہ والا (1974)
- سات قیدی
- پَنکھی نو مالو
- ماں باپ
- جُگل جوڑی
- چھیل چبیلو گجراتی
گجراتی فلم اَمدآواد نو رکشہ والا میں ان پر فلمایا گیا گانا "ہوں اَمدآواد نو رکشہ والا”، جسے کشور کمار نے گایا تھا، آج بھی ان کے مداحوں کو یاد ہے۔
اگرچہ ان کی سندھی زبان کی فلموں کی تفصیلات بہت زیادہ دستیاب نہیں ہیں، مگر ان کا سندھی پس منظر اور زبان سے لگاؤ واضح طور پر ان کے ثقافتی ورثے کا حصہ رہا۔
ایک ہمہ جہت فنکار
1980 اور 90 کی دہائی میں اسرانی دوردرشن کے معروف چہرے کے طور پر بھی سامنے آئے۔ انہوں نے مشہور سیریل نتکھٹ نارَد میں نارَد مونی کا کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کئی فلموں کی ہدایت کاری بھی کی اور 1988 سے 1993 تک فلم انسٹیٹیوٹ پونے میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔
اسرانی نہ صرف ایک کامیڈین بلکہ ایک ایسے فنکار تھے جو ہر کردار میں سچ تلاش کرتے تھے۔ بی بی سی ہندی سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا:
"میں خود کو صرف کامیڈین نہیں سمجھتا بلکہ ایک فنکار جو ہر کردار میں سچائی کو تلاش کرتا ہے۔”
بعد کے سال اور وراثت
2000 کی دہائی میں اسرانی نے نئی نسل کے ساتھ فلموں جیسے ہیرا پھیری، بھول بھلیاں، ڈی دانا ڈن، ویلکم اور ہلچل میں شاندار مزاحیہ کردار نبھائے۔ وہ پریہ درشن، ڈیوڈ دھون اور ساجد نادیادوالا جیسے ہدایتکاروں کے ساتھ طویل عرصے تک وابستہ رہے۔
ان کی آخری فلمی شرکت 2024 میں بھاگھلی فلم ‘کُنواراپور’ میں تھی، جس میں انہوں نے ٹکٹ چیکر کا کردار نبھایا۔
خراجِ عقیدت
ان کے انتقال پر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے انہیں “ہمہ جہت فنکار” قرار دیتے ہوئے کہا:
“انہوں نے اپنی ناقابلِ فراموش اداکاریوں کے ذریعے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں اور ہنسی بھریں۔ ان کا بھارتی سنیما میں حصہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”
ہدایتکار رمیش سپی نے کہا:
“شعلے کا جیلر ان کا ایسا کردار تھا جو صرف وہی نبھا سکتے تھے — وہ کردار انہی کے لیے بنا تھا۔”
اداکار اکشے کمار نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:
“میں نے ان کے ساتھ ہیرا پھیری، بھول بھلیاں، ڈی دانا ڈن اور ویلکم جیسی فلموں میں کام کیا۔ ان سے بہت کچھ سیکھا — یہ ہماری انڈسٹری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔”
گلوکار عدنان سمی نے لکھا:
“مجھے اپنے گانے لفٹ کرا دے کے ویڈیو میں ان کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا، جہاں انہوں نے اپنے مشہور جیلر کردار کو دوبارہ نبھایا۔ وہ بے حد فراخ دل انسان تھے۔”
نتیجہ — ایک عہد کا اختتام
گووردھن اسرانی نے اپنی فنی زندگی میں جو مسکراہٹیں دنیا کو دیں، وہ کبھی مدھم نہیں ہوں گی۔ وہ نہ صرف ایک مزاحیہ اداکار بلکہ ایک سنجیدہ فنکار، ایک ہدایتکار، اور ایک ثقافتی ورثے کے نمائندہ تھے۔ ان کا سندھی پس منظر، گجراتی سینما میں کردار، اور ہندی فلموں میں کامیڈی کا نیا معیار — سب کچھ ان کے عہد کی گواہی دیتا ہے۔
اسرانی ہمیشہ یاد رہیں گے — بطور وہ شخص جس نے بھارت کو ہنسایا۔
تاثراتِ مختلف شخصیات
نریندر مودی (وزیرِاعظمِ بھارت)
“گووردھان اسرانی جی کے انتقال پر انتہائی افسوس ہے۔ ایک باصلاحیت تفریح کار اور واقعی ہمہ جہت فنکار تھے جنہوں نے نسلوں کے سامعین کو مسکراہٹیں دی ہیں۔ ان کی اداکاری نے بے شمار زندگیوں میں خوشی اور ہنسی بھری۔ بھارتی سنیما میں ان کا حصہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”
سلمان خان
“اسرانی جی کے انتقال کی خبر نے مجھے بے حد دکھ میں ڈال دیا۔ ایک سچے مزاحیہ لیجنڈ — ہنسی کے سچے سفیر۔ #RIP”
اکشے کمار
“اسرانی سر کے جانے پر بے کلام ہوں۔ ہم نے صرف ایک ہفتہ قبل فلم ‘ہیوان’ کی شوٹنگ میں گلے ملے تھے۔ بہت پیارے انسان تھے… ان کی مزاحیہ ٹائمنگ لاجواب تھی۔ ہماری تمام کلٹ فلموں ‘ہیرا پھیری’، ‘بھاگم بھاگ’، ‘ڈی دانا ڈن’، ‘ویلکم’ … اور آنے والی ‘بھوت بنگلہ’، ‘ہیوان’—میں نے ان کے ساتھ کام کیا اور بہت کچھ سیکھا۔ ہماری انڈسٹری کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ خدا آپ کو برکت دے، اسرانی سر، ہمیں ہنسنے کے لیے لاکھوں وجوہات دینے کے لیے۔”
اجے دیوگن
“اسرانی جی کے انتقال کی خبر سن کر بے حد افسوس ہوا۔ آپ کی کام کرتے ہوئے جو عزت، مزاح اور عاجزی تھی، وہ بہت یاد رہے گی۔ ہمارے ساتھ اسکرین شیئر کرنا اعزاز تھا۔ ہمیشہ یاد کریں گے سر … اوم شانتی۔” The Times of India+1
عدنان سمی
“ہماری پیاری لیجنڈ اسرانی جی کے انتقال کی خبر نے دِل غمگین کر دیا۔ آپ نے مزاح کے علاوہ مختلف انداز میں کام کیا، مگر وہ ‘انگریزوں کے زمانے کے جیلر’ والا کردار ہمیشہ امر رہے گا۔ مجھے ‘لفٹ کرا دے’ کے میوزک ویڈیو میں آپ کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کی فراخدلی اسے کبھی نہیں بھلائے گی۔”
امیتابھ بچن
“ہم ایک ہورہے ہیں … اسرانی سر، ایک انتہائی باصلاحیت ساتھی، استاد۔ اچانک اور دکھ بھرا۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔”
شبانہ اعظمی
“اسرانی سر ہمارے ڈکشن ٹیچر تھے فلم انسٹی ٹیوٹ میں اور ان کی آواز، بولنے کا انداز بے مثال تھا۔ آج یہ شعبہ کم جانا جاتا ہے۔ پوری بھارت ایک بڑی کمی کا شکار ہے۔”
راجکمار راؤ
“آرام کریں، اسرانی سر۔ آپ نے ہماری بچپن کو ہنسی اور تفریح سے بھر دیا — اوم شانتی۔”
رکُل پریت سنگھ
“اسرانی سر کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ اللہ ان کی روح کو سکون دے۔ اوم شانتی۔”
کنل کیمو
“ان کے ساتھ کام کرنے کا اور ان کی زبردست مزاحیہ ٹائمنگ دیکھنے کا اعزاز ملا۔ جو کہانیوں آپ نے ہمیں سنائیں وہ ہمیشہ محفوظ رہے گی سر۔ آپ کو سلام اور خاندان کو حوصلہ۔”
عامر خان
“ہم اسرانی جی کے اچانک انتقال سے گہرے دکھ میں ہیں۔ ایک حقیقی آئیکون جن کی ذہانت، گرمجوشی اور ناقابلِ فراموش اداکاری نے نسلوں کے فلمی شائقین کو روشن کیا۔ ان کی میراث ہر اُس ہنسی میں زندہ رہے گی جو انہوں نے بھڑکائی اور ہر اُس دل میں جو انہوں نے چھوا۔ ایک دائمی فنکار، ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”
سماج میڈیا گروپ کی جانب سے خراجِ عقیدت
ساماج نیوز (www.samaj.com.pk) اور روشن سندھ (www.RoshanSindh.com) کی پوری ٹیم کی جانب سے گووردھن اسرانی جی کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ وہ اُن عظیم فنکاروں میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف پردے پر بلکہ ہمارے دلوں میں مسکراہٹیں بکھیریں۔
“وہ شخص جس نے سندھ، ھند سمیت دنیا بھر کو ہنسایا” — یہ الفاظ محض اظہارِ خیال نہیں بلکہ وہ حقیقت ہیں جو اُس کی مسکراہٹ، اداکاری اور قربانی نے ثابت کی۔ اُن کا انتقال، ہر طرح سے ایک عظیم خلا ہے، مگر اُن کی یادیں، کردار اور مزاحیہ روش ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اوم شانتی۔ 🙏