کراچی (سماج نیوز) سندھ حکومت نے گندم کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے بینظیر ہاری کارڈ پروگرام کے تحت 55.9 ارب روپے کسانوں پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات صوبائی وزیر اطلاعات و زراعت شرجیل انعام میمن نے اپنے ایک بیان میں کہی۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق ابتدائی طور پر چار لاکھ کسانوں کو ہاری کارڈ پروگرام میں شامل کیا جا رہا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں 22 لاکھ 60 ہزار ایکڑ زمین کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں سندھ بینک کے ذریعے مزید 50 ہزار بینظیر ہاری کارڈز جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہاری کارڈ کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہو چکا ہے، جن کسانوں کے پاس پہلے سے کارڈ موجود ہے وہ فوری طور پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں، جبکہ جن کے پاس کارڈ نہیں، وہ شناختی کارڈ یا زمین کا ریکارڈ دکھا کر رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے گی اور ڈیجیٹل نظام کے تحت زمین کی جانچ پڑتال بھی ہوگی۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ ویٹ گروورز پروگرام کے تحت ایک سے پچیس ایکڑ زمین رکھنے والے کسانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ گندم کی کاشت کے لیے کسانوں کو ایک بوری ڈی اے پی اور دو بوریاں یوریا کھاد فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گندم کی کاشت کے لیے کسانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے، کیونکہ گندم کی پیداوار میں اضافہ ملک میں خوشحالی اور خود کفالت کا باعث بنے گا۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ یہ پروگرام صرف مالی امداد نہیں بلکہ کسانوں کو باعزت طریقے سے خود کفیل بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ مرحلے میں سندھ حکومت مزید لاکھوں کسانوں کو بینظیر ہاری کارڈ فراہم کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ کاشتکار اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔