کراچی (4 اگست 2024ء) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یوم شہدائے پولیس کے موقع پر کراچی کےلیے بڑی خوشخبری سنادی۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے لیے فنڈز جاری کردیے ہیں، سیف سٹی کے پہلے مرحلے کے لئے 3ارب 67 کروڑ روپے جاری کردیے گئے۔ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت مختلف مقامات پر 1300 جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے اور صوبے بھر کے 40 ٹول پلازوں پر چہرہ شناس کیمرے اور نمبر پلیٹس کی خودکار شناخت کا نظام بھی نصب کیا جائے گا،۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے جدید نظام سے جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی جس سے ملزمان کی گرفتاری کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ کراچی کو جرائم سے پاک کرنے اور مجرمان کی سرکوبی کے لیئے اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ پولیس کے جوانوں کی نے اپنا لہو دیکر قیام امن اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا ہے، ہمیں اپنے شہداء کی جرات،شجاعت اور دلیری پر فخر ہے۔ یہ بات انہوں نے یوم شہدائے پولیس کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سندھ پولیس کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے شہدائوں نے ملکی سلامتی کی خاطر جان قربان کرکے تاریخ میں امر ہوگئے اور پولیس شہداء ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پولیس کے شہداء تنہا نہیں، صوبائی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت شہدائے پولیس کے ورثاء کے لیئے محکمانہ مراعات کی فراہمی میں انتہائی پرعزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہید کے ورثاء کے لیئے ایک کروڑ روپے دیئے جاتے ہیں اور دوران فرائض ٹریفک حادثہ میں شہید پولیس اہلکاروں کے ورثاء کے لیئے ایک ملین روپے دیئے جاتے ہیں۔ شہید کی 60 سال عمر تک ورثاء کے لیئے ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ شہید کے تجہیز و تکفین کے لیئے 3 لاکھ روپے کی فوری ادائیگی کی جاتی ہے۔ شہید کے دو بچوں کے لیئے ایک ایک لاکھ میرج گرانٹ، منتخب کردہ اداروں سے تعلیمی اسکالر شپ بھی فراہم کی جاتی ہے، شہید کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک ورثاء کو محکمانہ مراعات اور دیگر سہولیات کی فراہم کی جاتی ہیں۔ محکمہ پولیس سندھ میں شہید کے ورثاء کے لیئے دو ملازمتیں فراہم کی جاتی ہیں، شہید کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے ورثاء کو گھر کی خریداری کے لیئے مجموعی رقم 17.5 ملین روپے فراہم کرتے ہیں۔ اے ایس آئی اور سب انسپکٹر کے ورثا کے لیئے 22.5 ملین روپے مالی معاونت اور گھر کی خریداری کے لیئے فراہم کیئے جاتے ہیں ۔ انسپکٹر اور ڈی ایس پی رینک کے لیئے 31 ملین روپے مالی معاونت اور گھر کی خریداری کے لیئے فراہم کیئے جاتے ہیں۔ ایس پی / ایس ایس پی رینک کے لیئے 38 ملین روپے مالی معاونت اور گھر کی خریداری کے لیئے فراہم کیئے جاتے ہیں۔ ڈی آئی جی اور اس سے اگلے رینک کے ورثاء کے لیئے مالی معاونت اور گھر کی خریداری کے لیئے 60 ملین کی رقم مختص کی گئی ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پولیس کے غازیوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ یہ بھی ہمارے ہیروز ہیں۔ غازی پولیس اہلکاروں نے دوران فرائض سماج دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ فرائض کے دوران مستقل معذور ہونیوالے پولیس اہلکاروں کے لیئے 10 لاکھ مختص کیئے گئے ہیں۔ عارضی طور پر معذور ہونیوالوں کے لیئے 5 لاکھ کی مالی سپورٹ مختص کی گئی ہے۔ طبی سہولیات کے لیئے پولیس کے ایک لاکھ 27 ہزار ملازمین اور انکے خاندان کیلئے دس لاکھ روپے سالانہ ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس کے ان افسران اور جوانوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جو جرائم اور مجرمان کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ بہادر پولیس جوان ثابت کررہے ہیں کہ پولیس نام ہی جرائم کے خلاف ڈٹ جانے اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کا۔ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں اور کارناموں کو مشعل راہ بناتے ہوئے جرائم کے خلاف ہر جنگ کو کامران بنائیں گے۔ ہم روشن مستقبل کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔
سندھ پولیس کے شہدائوں نے ملکی سلامتی کی خاطر جان قربان کرکے تاریخ میں امر ہوگئے، وزیراعلیٰ سندھ
KARACHI (August 4th, 2024): Sindh Chief Minister Syed Murad Ali Shah speaks at Youm-e- Shuhada program organised by Sindh Police at Bahria Auditorium, Karsaz, Karachi, Sindh.