کراچی (سماج نیوز) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگرچہ بارش کا موجودہ سلسلہ خیریت سے گذر گیا تاہم گیارہ اگست سے آنے والے بارشوں کے نئے سلسلے کےلیے تمام متعلقہ محکمے بھرپور تیاری کریں ۔ شہری علاقوں میں مقامی حکومتیں اور دیہی علاقوں میں محکمہ آبپاشی کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور فصلوں کو بچانے کےلیے بروقت اقدامات کریں۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت بارشوں کی صورتحال پر اجلاس بروز اتوار وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، شرجیل میمن، سعید غنی، میر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم رحیم شیخ، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سلمان شاہ، چیف میٹرولاجسٹ ڈاکٹر سرفراز اور دیگر شریک ہوئے، جبکہ وزیر آبپاشی جام خان شورو اور وزیر برائے رلیف اینڈ ریہیبلی ٹیشن مخدوم محبوب الزماں، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور تمام ڈویژنل کمشنرز نے بذریعہ زوم شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سال اگست میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی ہے، خصوصی طور پر سندھ اور پنجاب میں پچاس فیصد سے زائد بارشوں کی توقع ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر سرفراز نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ بارشوں کا موجودہ سلسلہ چھ اگست کو ختم ہوجائے گا۔ بارشوں کا اگلا سلسلہ گیارہ تا تیرہ اگست کے درمیان آنے کی توقع ہے ۔ اگست کے آخری دنوں یعنی اٹھارہ، بیس اور اکیس تاریخ کو بھی ہلکی اور تیز بارشوں کی توقع ہے ۔ مجموعی طور پر اگست میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ موسمیاتی صورتحال کے پیش نظر ستمبر میں بھی بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ مون سون کا سلسلہ پندرہ سے بیس ستمبر 2024ء تک جاری رہے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جیکب آباد، شکارپور، قمبرشہدادکوٹ، کشمور ، لاڑکانو ، دادو ، نوشہرو فیروز، نوابشاہ، گھوٹکی، سکھر، سانگھڑ، مٹیاری ، جامشورو، میرپورخاص، عمرکوٹ اور خیرپور اضلاس میں چھ اگست کی دوپہر تک تیز ہواؤں کے ساتھ کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کی توقع ہے۔
کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع،حیدرآباد ڈویژن کے حیدرآباد، ٹھٹو، سجاول، بدین، ٹنڈومحمد خان، ٹنڈو الہ یار اور تھرپارکر اضلاع میں آج اور کل کہیں ہلکی اور موسلا دھار طوفانی بارشوں کی پیش گوئی ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ شہر کراچی میں 207 نشیبی علاقے ہیں۔ ضلع جنوبی میں 56، غربی میں 17، وسطی میں 22، ملیر میں 32، کورنگی میں16، کیماڑی میں 26 اور شرقی میں 38 نشیبی علاقے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملیر میں ایک، کورنگی میں 3، وسطی میں 7، شرقی میں 5، جنوبی میں 9، غربی میں 2، کیماڑی میں 2 مقامات ایسے ہیں جہاں نکاسی آب کرنی ہوگی۔ انہوں نے آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ ٹاور، گورنر ہاؤس، نرسری، اسٹار گیٹ، جناح ٹرمینل، کے ڈی اے چورنگی، کے ایم سی ہیڈ کوارٹر اور لیاقت آباد پر ڈی-واٹرنگ مشینز کا بندوبست کیا ہے۔
وزیربحالیات مخدوم محبوب الزمان نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے نے فلک ناز، اللہ والا ٹاؤن، قیوم آباد، بلال چورنگی، غریب آباد، ناظم آباد انڈرپاس ، لیاقت انڈر پاس، سخی حسن چورنگی، ناگن چورنگی، سہراب گوٹھ، جوہر چورنگی، نرسری، نیشنل اسٹیڈیم، یونیورسٹی روڈ، کے پی ٹی انڈرپاس، شاہین کامپلیکس، ایس آئی یو ٹی ، سندھ اسمبلی ، سب-مرین انڈرپاس، ٹاور، یوسف گوٹھ، فور کے چورنگی، نیٹی جیٹی اور گلبائی جیسے حساس مقامات سے نکاسی آب کےلیے پمپس فراہم کردیے ہیں۔
وزیرآبپاشی جام خان شورو نے دریائے سندھ کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آج گڈو بیراج کی صورتحال نچلے درجے کے سیلاب سے کافی کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان سے برساتی پانی ابھی سندھ میں داخل نہیں ہوا، حمل جھیل میں طغیانی کے بعد منچھر جھیل کی سطح میں بھی اضافے کا امکان ہے تاہم فی الحال دونوں جھیلوں کی صورتحال معمول پر ہے۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے بتایا کہ منچھر جھیل میں صفر اعشاریہ چار فٹ پانی کا اضافہ ہوا ہے جو غیرمعمولی بات نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر بارشوں کے باعث منچھر جھیل کی کڑی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے سیکریٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ افسران کو الرٹ کریں کہ منچھر جھیل کی سطح میں اضافہ ہوتے ہی پانی کی دریائے سندھ میں نکاسی کو یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھان سعیدآباد، جوہی اور دیگر مقامات پر بھی بارش کے پانی کی نکاسی کی ہدایات جاری کیں۔
شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور فصلوں کو بچانے کےلیے بروقت اقدامات کیے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ