• پیر. مارچ 2nd, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

گل پلازہ سانحہ

Bysamaj.com.pk

جنوری 19, 2026

کراچی (سندھ، پاکستان) – کراچی کے مصروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کی رات تقریباً 10:15 بجے شدید آتشزدگی کے باعث ایک تباہ کن سانحہ رونما ہوا، جس نے شہر، تاجروں اور ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان کا سبب بھی بنا۔ سانحہ اتنا شدید تھا کہ آگ 48 گھنٹے سے زائد وقت تک بجھائی گئی اور کولنگ عمل اس کے بعد بھی جاری رہا۔

🔥 واقعہ کہاں اور کیسے شروع ہوا؟

گل پلازہ، صدر کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک قدیم اور متحرک تجارتی مرکز ہے، جس میں تقریباً 1200 دکانیں موجود تھیں، جن میں کپڑے، الیکٹرانکس، گھریلو سامان، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء بیچے جاتے تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر ایک مصنوعی پھولوں کی دکان سے لگی اور تیزی سے تیز ہوا اور ناقص وینٹی لیشن کے باعث اسے پوری عمارت میں پھیلنے میں مدد ملی۔

جلتے ہوئے سامان، خاص طور پر پلاسٹک اور دیگر آتش گیر اشیاء نے آگ کے پھیلاؤ کو بے حد تیز کیا، جس سے شدید دھواں اور گرمی نے اندر موجود لوگوں کو بچنے کا موقع کم دے دیا۔

👩‍🚒 ریسکیو آپریشن اور مشکلات

ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر فوری کارروائی شروع کی، مگر کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا:

  • شدید حرارت کے باعث اندرونی حصوں میں پہنچنا ناممکن ہوا۔
  • پلیزہ میں موجود بہت ہی کم ایمرجنسی ایکزِٹ اور ناقص رسائی کی وجہ سے ریسکیو مشکل ہوگیا۔
  • کئی مقامات پر عمارت کے پلر اور حصہ منہدم ہوگئے۔
  • فائر بریگیڈ 16 سے زائد اسٹیشنوں، پاکستان نیوی، واٹر بورڈ اور ریسکیو 1122 کی مدد سے لڑتی رہی۔

⚰️ جانی نقصان اور زخمی

سرکاری اور آزاد ذرائع کے مطابق:

  • مجموعی طور پر اس آتشزدگی میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔
  • 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
  • مزید 60 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش اور تلاشِ بچاؤ جاری ہے۔

متعدد لاشیں ملبے سے نکالی جاچکی ہیں جبکہ کئی افراد کے بارے میں رشتہ داروں نے تاحال معلومات فراہم نہیں کیں۔


💔 تجارتی نقصان

تاجروں کا کہنا ہے کہ اس سانحے سے کاروبار کو تقریباً 3 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے، کیونکہ ہر دکان میں لاکھوں روپے مالیت کا سامان موجود تھا۔

#تجارتی ایسوسی ایشنز نے یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، اور متاثرین کے حق میں قرآن خوانی اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔


🏛️ حکومتی ردعمل اور اقدامات

حکام اور سیاسی رہنماؤں نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، اور متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے:

تحقیقات اور انکوائری

  • سندھ کے وزیراعلیٰ نے واقعے کی فوری انکوائری کا حکم دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

معاوضہ اور ریلیف

  • صوبائی حکومت متاثرین کو معاوضہ فراہم کرے گی، جبکہ سرچ آپریشن اور بعد ازاں تحقیقات پر کام جاری ہے۔

سیکیورٹی اور آمنے سامنے نگرانی

  • حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل میں شہر کے تجارتی مراکز اور پرانے بلڈنگز کی فائر سیفٹی کا سختی سے جائزہ لیا جائے گا۔

📊 ماہرین کی آراء اور سوالات

آگ لگنے کے بعد ماہرین اور عوام نے کئی سوالات اٹھائے ہیں:

  • فائر سیفٹی انتظامات کا فقدان اور ضابطوں کی غیر مؤثر عملداری۔
  • ایمرجنسی ایکزِٹس، اسپنکلرز اور جدید سیفٹی سسٹمز نہ ہونے کے باعث نقصان زیادہ ہوا۔
  • بہت سے شہریوں نے حکومتی اور انتظامی غفلت کا ذکر بھی کیا ہے، جبکہ تاجر برادری نے ریسکیو حکام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

📌 نتیجہ

سانحہ گل پلازہ نہ صرف ایک گمبھیر انسانی المیہ ہے، بلکہ یہ پاکستان کے بڑے شہروں میں فائر سیفٹی، تجارتی تحفظ، اور انتظامی تیاری کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا اشارہ بھی ہے۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ روایتی اور قدیم بلڈنگز میں مناسب حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے معمولی حادثہ بھی بڑے تباہ کن سانحے میں بدل سکتا ہے، جس کے اثرات عشروں تک محسوس کیے جائیں گے۔

https://www.facebook.com/media/set/?vanity=Samaj.com.pk&set=a.122231951222132731