کراچی (سماج نیوز) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 27 نکات پر مشتمل ایجنڈا پیش کیا گیا، جبکہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں، توانائی، ماحولیات اور سیکیورٹی سے متعلق کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
اسلام کوٹ تا پورٹ قاسم ریلوے لائن — تھر کول کے لیے تاریخی منصوبہ
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی کہ:
- تھر سے کوئلے کی ترسیل کے لیے اسلام کوٹ تا چھوڑ 105 کلومیٹر ریلوے لائن بچھائی جائے گی۔
- بن قاسم سے پورٹ قاسم تک 9 کلومیٹر ڈبل ٹریک بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
- پورٹ قاسم پر کوئلے کی جدید انلوڈنگ سہولت قائم کی جائے گی۔
- سندھ حکومت اور وزارت ریلوے 50-50 شراکت داری میں شامل ہیں۔
منصوبے کی لاگت 75 ارب روپے سے بڑھ کر 90 ارب روپے ہوگئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے فوری طور پر 6.61 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی۔
سندھ سولر انرجی پروجیکٹ — 3 ارب روپے کا فراڈ بے نقاب
27.4 ارب روپے کے ورلڈ بینک معاونت یافتہ سولر انرجی پروجیکٹ میں 3 ارب روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ:
- متعلقہ کنٹریکٹر فرم کو بلیک لسٹ کیا جائے۔
- معاملہ اینٹی کرپشن کو انکوائری کے لیے بھیجا جائے۔
وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ تحقیقات شفاف اور سخت بنیادوں پر کی جائیں۔
سولر ہوم سسٹم پروگرام — صوبے کے غریب گھرانوں کے لیے بڑی خوشخبری
18.8 ارب روپے مالیت کا سولر ہوم سسٹم پروگرام کابینہ میں پیش کیا گیا۔
اہم نکات:
- 2 لاکھ 50 ہزار سولر کٹس غریب گھرانوں کو مفت فراہم کی جائیں گی۔
- 1,20,000 کٹس تھر، کوہستان اور کچے کے آف گرڈ علاقوں کے لیے مختص۔
- 1,30,000 کٹس آن گرڈ مستحق صارفین (0–100 یونٹ) کے لیے مخصوص۔
- ہر کٹ میں سولر پینل، بیٹری، ایل ای ڈی لائٹس، ڈی سی فین اور موبائل چارجنگ پورٹ شامل ہوگا۔
ایک لاکھ کٹس کے لیے 5.518 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ این آر ٹی سی نے 25 ہزار کٹس اضافی طور پر مفت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
کٹس کے نمونے این ای ڈی، پی سی ایس آئی آر اور یو ای ٹی لاہور سے کلیئر ہو چکے ہیں۔
ڈیٹا بیس تیار ہے، 1,67,746 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جبکہ 26 این جی اوز نے کٹس کی فراہمی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سخت مانیٹرنگ اور بروقت فراہمی کی یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔
براؤن فیلڈ سائٹس کی ازسرنو ترقی — سندھ کابینہ کا بڑا ماحول دوست فیصلہ
کابینہ نے کاربن فنانس حکمت عملی کی منظوری دے دی جس کے تحت صوبے کی براؤن فیلڈ سائٹس کی جدید بنیادوں پر بحالی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ:
- محکمہ ماحولیات کاربن فنانس استعمال کرتے ہوئے غیر استعمال شدہ زمینوں کی دوبارہ ترقی کرے۔
- محکمہ توانائی نے پرانی صنعتی سائٹس پر سولر پارکس اور ونڈ فارمز بنانے کی تجویز دی۔
- ڈمپنگ گراؤنڈز کو بائیو گیس اور ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
- محکمہ جنگلات نے بڑے پیمانے پر جنگلات لگانے اور ویٹ لینڈز بنانے کی حکمت عملی پیش کی۔
وزیراعلیٰ نے جام چکرو سائٹ کو جدید لینڈفل میں تبدیل کرنے اور سندھ بھر کی دیگر ویسٹ سائٹس کو بھی اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا۔
کابینہ نے شہری جنگلات، گرین بیلٹس، مینگرووز کی بحالی اور قدرتی حل (Nature-Based Solutions) کی منظوری بھی دی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کی براؤن فیلڈ ری ڈیولپمنٹ نیشنل پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
کراچی میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع — امن و امان کے تسلسل کیلئے اہم فیصلہ
سندھ کابینہ نے کراچی میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کی منظوری دے دی۔
- رینجرز انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پولیس کی معاونت جاری رکھے گی۔
- نئی مدت 9 دسمبر 2025 سے مؤثر ہوگی۔
ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق یہ فیصلہ کراچی کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
ڈی ایچ اے پائپ لائن منصوبے کے پانی کے نرخ میں نظر ثانی
- کابینہ نے ڈی ایچ اے پائپ لائن منصوبے کے لیے پانی کے نرخ میں نظرِ ثانی کی منظوری دی۔
- نئی قیمت 0.85 روپے فی گیلن سے کم کر کے 0.60 روپے فی گیلن مقرر کی گئی۔
- کے ڈبلیو ایس سی اور ڈی ایچ اے کے مذاکرات کے بعد ادائیگی کا دورانیہ 10 سال برقرار رکھا گیا۔
- منصوبے کی مالی پائیداری اور ڈی ایچ اے کے لیے قابلِ برداشت نرخ کو مدنظر رکھا گیا۔
مزید تفصیلات، نمایاں خبریں اور خصوصی رپورٹس کے لیے وزٹ کریں:
👉 www.samaj.com.pk