• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

میرپور ساکرو میں ہندو طالبات کو زبردستی مسلمان بنانے کے الزام پر ہیڈ مسٹریس معطل، متاثرہ طالبہ کے والد سرکاری ملازم سانون بھی معطل

Bysamaj.com.pk

نومبر 24, 2025

میرپورساکرو (سماج نیوز) گورنمینٹ گرلز ہائی اسکول میرپور ساکرو کی ہندو طالبات کی جانب سے ہیڈ مسٹریس پر مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیل کرانے اور تذلیل کرنے کے الزام کے معاملے پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم سید سردار شاہ کی حکم پر میرپور ساکرو میں ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن آفیس سے انکوائری آفیسر نعمان صدیقی پہنچ گئے ان کے ساتھ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری حضور بخش خاصخیلی اور آفیسر فاروق جونیجو کی سربراہی میں انکوائری ٹیم نے ہندو طالبات، ان کے والدین اور اسکول کی ہیڈ مسٹریس سمیت متعدد اساتذہ کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ طالبات ویشیتا اور سانوڻ مہیشوری کے ساتھ ساتھ ایچ ایم گلناز جوکھیو کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، متاثرہ طالبہ کے والد سانون مہیشوری کی معطلی پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف سماجی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انتقامی اقدام قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک معروف سماجی رہنما شجاع الدین قریشی نے بیان میں کہا کہ:
"یہ ایک مذہبی انتہا پسند چیئرمین کا کھلا بدلہ ہے۔ ہندو سینیٹری ورکر کو صرف اس لیے معطل کیا گیا کہ اس کی بیٹی نے مبینہ طور پر زبردستی مذہب تبدیل کرانے والی ٹیچر کے خلاف آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد محکمہ تعلیم نے ٹیچر کو معطل کیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "قانونی تقاضوں کی حمایت کرنے کے بجائے مذہبی انتہاپسند عناصر ملزمہ ٹیچر کے دفاع میں کھڑے ہو گئے ہیں اور اب اس باپ کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس نے ہمت کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے واقعے کو سامنے لایا۔ بغیر کسی انکوائری کے ایک سینیٹری ورکر کی معطلی ناانصافی کی بدترین مثال ہے۔”

سوشل میڈیا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ میرپور ساکرو ٹاؤن ایڈمنسٹریشن کی یہ کارروائی نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کرتی ہے اور اسے انصاف، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید تحقیقات بدستور جاری ہیں۔