ٹھٹو (سماج نیوز) میرپور ساکرو میں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی اقلیتی طالبات نے اسکول کی ہیڈ مسٹریس کے مبینہ ناروا رویّے اور دباؤ کے خلاف پُرزور احتجاج کیا۔ طالبات نے پُرنم آنکھوں کے ساتھ صحافیوں کو بتایا کہ ہیڈ مسٹریس ان پر اسلام قبول کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں اور انہیں کہا جاتا ہے کہ “اسلام قبول کرو، پھر اسکول پڑھو… ورنہ یہاں آنے کا کوئی حق نہیں۔”
طالبات کے مطابق جب انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کرنے سے انکار کیا تو ہیڈ مسٹریس نے انہیں زبردستی دھکے دے کر اسکول سے باہر نکال دیا۔ اس واقعے کے بعد طالبات اور اُن کے والدین شدید خوف اور بے چینی کا شکار ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور مذہبی بنیادوں پر ایسا امتیازی سلوک نہ صرف آئین پاکستان، غیر قانونی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
وزیرِ تعلیم سندھ سردار شاہ کا فوری نوٹس
میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد سندھ کے وزیرِ تعلیم سید سردار شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ضلعی تعلیم افسر ٹھٹو کو حکم دیا ہے کہ وہ معاملے کی مکمل انکوائری کرکے حقائق سامنے لائیں۔
سردار شاہ نے اپنے بیان میں کہا:
- “اقلیتیں ہمارے ملک پاکستان کا حسن ہیں، ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔”
- انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اقلیتی طالبات کے تعلیم اور تحفظ کی ضامن ہے اور کسی کو بھی ان کے بنیادی حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
- “اقلیتی طالبات اطمینان رکھیں، ہم اُن کے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی کا مکمل ازالہ کریں گے۔”
والدین کا مطالبہ
طالبات کے والدین نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار ہیڈ مسٹریس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔