کراچی (سماج نیوز) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سائٹ ایریا ہارون آباد میں صنعتکاروں سے ملاقات کی اور انہیں کراچی واٹر کارپوریشن کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کا تفصیلی دورہ کروایا۔ اس موقع پر سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے میئر کراچی اور صنعتکاروں کو ٹریٹمنٹ پلانٹس کے تکنیکی امور سے متعلق بریفنگ دی۔
میئر کراچی نے بتایا کہ شہر میں پانی کی ٹریٹمنٹ شروع کرکے اسے صنعتوں کے لیے ری سائیکل کیا جائے گا تاکہ صنعتی استعمال کے لیے قابلِ بھروسہ سپلائی فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ماڑی پور میں واقع ٹی پی تھری ٹریٹمنٹ فیسلٹی طویل عرصے کے بعد دوبارہ آپریشنل ہوگئی ہے جبکہ ہارون آباد ٹی پی ون میں پچیس سال بعد ٹینکس مکمل طور پر صاف کیے جاچکے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق سائٹ انڈسٹریل ایریا کے عقب میں واقع ٹی پی ون پر تیزی سے کام جاری ہے اور پہلے مرحلے کی ڈیڈ لائن 31 دسمبر مقرر کی گئی ہے۔ ابتدائی فیز میں 20 ایم جی ڈی پانی کو سیکنڈری سطح پر ٹریٹ کیا جائے گا جبکہ دس لاکھ گیلن پانی صنعتی استعمال کے لیے ری سائیکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد غیر ٹریٹ شدہ پانی کو سمندر میں بہنے سے روکنا اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی معیار اور ایس ڈی جیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ صنعتوں کو اس وقت روزانہ تقریباً 150 ایم جی ڈی پانی درکار ہے، اور ری سائیکل پانی سے روزانہ 15 کروڑ گیلن کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
میئر کراچی نے مزید کہا کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو کراچی پاکستان کا پہلا انڈسٹریل واٹر پارک بن جائے گا، جو صنعتوں کے لیے پانی کی مستقل اور پائیدار فراہمی کی ضمانت ہوگا۔ انہوں نے اسے پیپلز پارٹی انتظامیہ کا صنعت دوست قدم قرار دیا۔
سماج نیوز www.samaj.com.pk