• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

پیپلز پارٹی کا 27ویں آئینی ترمیم پر دوٹوک مؤقف، صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں

Bysamaj.com.pk

نومبر 7, 2025

کراچی (پریس رلیز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے این ایف سی میں صوبوں کے شیئر کو حاصل آئینی تحفظ کو ہٹانے اور متفقہ اٹھارویں ترمیم کے تحت نچلی سطح تک منتقل کیئے گئے اختیارات کو واپس لینے کے پروپوزل کو مسترد کردیا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جمعرات 6 نومبر 2025ي کو جاری کردہ پریس رلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس نے حکومت کی مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم میں شامل آئینی عدالت، این ایف سی، ایجوکیشن، پاپولیشن پلاننگ، ایگزیکیوٹو میجسٹی، ججزز ٹرانسفر اور الیکشن کمیشن میں ڈیڈلاک سمیت تمام امور کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کل (بروز جمع) جاری رہے گا، جس میں مجوزہ آئینی ترمیم میں شامل دیگر امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی این ایف سی میں صوبوں کے شیئر کو حاصل آئینی تحفظ میں تبدیلی کو مسترد کرتی ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ریورس کرنے والے پروپوزل کی بھی حمایت کیلیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکیوٹو کمیٹی نے تاحال حکومت کی مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم میں شامل صرف ایک بات کی حمایت کی ہے، جو آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آرٹیکل 243 میں ترامیم کرکے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے کو نیا نام، اسٹریٹجک کمانڈ کو ایک نیا عہدہ دینا چاہتی ہے، جبکہ بھارت کو جنگ میں شکست دینے پر آرمی چیف کو جو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا گیا ہے، اسے حوالے سے بھی ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مجھے اجازت دی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس کا (آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترامیم کی)حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس نے حکومت کی مجوزہ نئی آئینی ترامیم میں جو باقی پوائنٹس ہیں یا تو وہ پوری طرح سے مسترد کی ہیں، یا ان پر کل ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی عدالت میں صوبوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی کے معاملے پر بھی کمپرومائیز کر نے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک چارٹر آف ڈیموکریسی کی بات ہے تو اس میں بالکل یہ شامل تھا کہ ملک میں آئینی عدالت ہونی چاہیے، مگر چارٹر آف ڈیموکریسی میں دوسری چیزیں بھی شامل تھیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس کل (آج) جمعہ نماز کے بعد شروع ہوگا۔