• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

اپوزیشن جماعتوں کا 27ویں آئینی ترمیم پر شدید ردعمل

Bysamaj.com.pk

نومبر 7, 2025

صوبائی خودمختاری، عدلیہ کے اختیارات اور وفاقی کردار پر بحث تیز

کراچی / اسلام آباد (سماج نیوز) وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے ڈرافٹ نے ملکی سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ترمیم آئینی اداروں کے درمیان "توازن” اور "وضاحت” پیدا کرے گی، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اسے صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ اور عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

ترمیم کے نمایاں نکات

ذرائع کے مطابق مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں درج ذیل اہم تجاویز شامل ہیں:

  • وفاقی آئینی عدالت کا قیام، جو آئینی تنازعات پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
  • این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو حاصل مالیاتی تحفظ کی شق میں تبدیلی کی تجویز۔
  • ایجوکیشن، پاپولیشن پلاننگ، ہیومن رائٹس سمیت چند اختیارات دوبارہ وفاق کو دینے کا امکان۔
  • آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور اسٹریٹجک کمانڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی۔

پیپلز پارٹی کا مؤقف

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران اس ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “27ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے۔ پیپلز پارٹی صوبوں کے مالی و انتظامی اختیارات واپس لینے کی کسی بھی کوشش کی حمایت نہیں کرے گی۔”

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی صرف آرٹیکل 243 سے متعلق ترامیم کی حمایت کرے گی، باقی نکات یا تو مسترد کیے گئے ہیں یا ان پر مزید غور جاری ہے۔


مسلم لیگ (ن) اور حکومتی موقف

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق 27ویں ترمیم کا مقصد “اداروں میں توازن” اور “فیصلہ سازی میں شفافیت” لانا ہے۔
ان کے مطابق “یہ تاثر غلط ہے کہ ترمیم سے صوبوں کے اختیارات یا وسائل کم ہوں گے۔ حکومت ہر فریق سے مشاورت کے بعد ہی بل پیش کرے گی۔”


ایم کیو ایم پاکستان کا مؤقف

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے اس ترمیم پر مشروط حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ “اگر 27ویں آئینی ترمیم میں اختیارات واقعی نچلی سطح یعنی شہری حکومتوں تک منتقل کیے جائیں تو ایم کیو ایم اس کی حمایت کرے گی، لیکن اگر مقصد صوبوں یا شہری علاقوں کے حقوق کم کرنا ہے تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔”

ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی آئین کی روح ہے، اور اس پہلو کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔


دیگر سیاسی جماعتوں کا ردعمل

  • پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ترمیم کو “اختیارات کی مرکزیت” قرار دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ “حکومت اپنی آئینی کمزوریاں چھپانے کے لیے وفاقی دائرہ اختیار بڑھانا چاہتی ہے۔”
  • جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اگر این ایف سی میں صوبائی حصہ کم کیا گیا تو “یہ آئینی وعدوں سے انحراف ہوگا۔”
  • اے این پی (عوامی نیشنل پارٹی) نے 27ویں آئینی ترمیم کو “اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازش” قرار دیا ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے

آئینی ماہرین کے مطابق ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے مابین اختیارات کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
ایک سینیئر قانون دان کے بقول “اگر آئینی عدالت کو سپریم کورٹ پر بالادست حیثیت دی گئی تو عدلیہ کے اندر نئی طاقت کی تقسیم پیدا ہوگی، جس کے سیاسی نتائج بھی ہوں گے۔”


سیاسی منظرنامہ اور آئندہ لائحہ عمل

ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتیں آئندہ ہفتے اسلام آباد میں مشترکہ اجلاس طلب کرنے پر غور کر رہی ہیں تاکہ اس ترمیم کے خلاف متحدہ پارلیمانی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
دوسری جانب، حکومت نے کہا ہے کہ ترمیم کا حتمی مسودہ “تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد” پارلیمان میں پیش کیا جائے گا۔


📍 (رپورٹ: سماج نیوز ڈیسک)
📅 تاریخ: 7 نومبر 2025
🌐 مزید خبروں کے لیے وزٹ کریں: www.samaj.com.pk