حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) 21 اکتوبر 2025
سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) نے ایک گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی میڈیا مہم پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض شرپسند عناصر نے یہ مہم محمد ایوب پنہور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریکروٹمنٹ کی ایماء پر شروع کی ہے۔
کمیشن کے مطابق، یہ میڈیا مہم نہ صرف ادارے کے انتظامی عملے کو نشانہ بنا رہی ہے بلکہ افسران کے اہل خانہ کو بھی ملوث کر رہی ہے، جو اخلاقی، پیشہ ورانہ اور قانونی حدود سے تجاوز ہے۔ کمیشن نے اس رویے کو غیر اخلاقی، غیر پیشہ ورانہ اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
پریس ریلیز میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ محمد ایوب پنہور اس وقت معطل ہیں اور ان کے خلاف سندھ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1973 کے تحت محکمانہ انکوائری جاری ہے۔
ان پر لگائے گئے الزامات میں بدسلوکی، بدعنوانی، سرکاری نظم و ضبط کی خلاف ورزی، ممبران کے ساتھ نامناسب رویہ، سرکاری ضوابط کی خلاف ورزی، واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے دھمکیاں دینے اور بے بنیاد آئینی درخواستیں اور توہین عدالت کی درخواستیں دائر کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
کمیشن نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے گریڈ 22 کے ایک ریٹائرڈ سینئر رکن کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے جو تمام الزامات کی جانچ کر کے قانونی سفارشات پیش کریں گے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن نے اپنے مؤقف میں کہا کہ ادارہ شفافیت، احتساب اور منصفانہ طرزِ حکمرانی کے اصولوں پر کاربند ہے۔
کمیشن نے کہا کہ وہ تعمیری تنقید اور ذمہ دارانہ صحافت کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم ایسے بے بنیاد میڈیا حملوں اور ذاتی کردار کشی کی مہمات کی سختی سے مذمت کرتا ہے جو ادارے یا اس کے افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جاتی ہیں۔
آخر میں، SPSC نے تمام افراد اور اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ کمیشن یا اس کے افسران کے خلاف میڈیا ٹرائل، بالخصوص ان کے اہل خانہ کو شامل کرنا، ایک غیر قانونی عمل ہے۔
کمیشن نے اعلان کیا کہ وہ ایسے تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے جو بدنامی، جھوٹ یا بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں۔

ذرائع: سندھ پبلک سروس کمیشن، حیدرآباد
تاریخِ اجرا: 21 اکتوبر 2025