کراچی (سماج نیوز) 16 جولائی 2025:
محکمہ اطلاعات حکومت سندھ نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز میں خواتین کی نمائندگی دینے اور کمیشن کو مزید بااختیار بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ اہم فیصلہ بدھ کو صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ اور سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا، جو ان کے دفتر کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں طے پایا کہ خواتین صحافیوں کو کمیشن میں نمائندگی دینے کے لیے ترمیمی بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جب کہ کمیشن کے خطوط کا جواب نہ دینے والے افسران کے خلاف کارروائی کے اختیارات کے لیے کابینہ سے رجوع کیا جائے گا۔
اجلاس میں کون شریک ہوا؟
اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، کمیشن چیئرمین اعجاز احمد میمن، سیکریٹری سعید میمن، اور ممبران ڈاکٹر عبدالجبار خٹک، ڈاکٹر توصیف احمد خان، مظہر عباس اور عبیداللہ نے شرکت کی۔
کمیشن کی کارکردگی پر بریفنگ
اجلاس میں کمیشن کی اب تک کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیشن چیئرمین کے مطابق 2023 سے اب تک 18 اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جن میں صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کیسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ان کیسز میں پولیس اور محکمہ داخلہ سے رپورٹس طلب کی گئیں۔
کمیشن کو درپیش چیلنجز
اجلاس میں کمیشن ممبران نے نشاندہی کی کہ بعض حکام کمیشن کی طرف سے بھیجے گئے خطوط کا جواب نہیں دیتے، جس سے کمیشن کی افادیت متاثر ہوتی ہے۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ قانون میں ترامیم لا کر کمیشن کو قانونی اختیارات دیے جائیں تاکہ ایسے حکام کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن ہو۔
خواتین صحافیوں کی نمائندگی کو ضروری قرار
اراکین نے زور دیا کہ خواتین صحافیوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے لیے کمیشن میں ان کی نمائندگی ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں ترمیمی بل جلد صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات کا ردِعمل
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"میں خود ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کروں گا۔ صحافیوں کا تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کے قانون کے تحت میڈیا اداروں پر صحافیوں کی لائف انشورنس اور پیشہ ورانہ تربیت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور اس حوالے سے کمیشن کی طرف سے خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔
میڈیا مالکان اور یونینز کے لیے پیغام
شرجیل انعام میمن نے میڈیا اداروں اور صحافتی یونینز سے اپیل کی کہ وہ اپنے اداروں میں کام کرنے والے صحافیوں کا مکمل ڈیٹا کمیشن کو فراہم کریں تاکہ ان کے تحفظ کے لیے مؤثر پالیسی تشکیل دی جا سکے۔
کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی ہدایت
آخر میں وزیر اطلاعات نے کمیشن چیئرمین کو ہدایت دی کہ میڈیا اداروں کو خطوط لکھے جائیں تاکہ صحافیوں کے لیے حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
🔗 مزید خبروں کے لیے وزٹ کریں: www.samaj.com.pk
📢 رابطہ کریں یا خبریں بھیجیں: newsroom@samaj.com.pk