• جمعرات. جنوری 15th, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

سندھ حکومت کو ارسا چیئرمین کی تعیناتی پر شدید خدشات

ByHyder Junejo

مارچ 14, 2024

کراچی (14 مارچ 2024) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ارسا چیئرمین کی تعیناتی پر ہمیں شدید خدشات ہیں۔ یہ بات انہوں نے آج سینیٹ انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔  وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کل ہماری کابینہ مکمل ہو گئی ہے، کل کابینہ میں امن و امان پر بریفنگ ہوئی، پاکستان پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ (نواز) کو حمایت حاصل ہے، 2016ء میں پہلی بار وزیرِ اعلیٰ بنا، اس وقت پیپلز پارٹی کے نواز لیگ سے تعلقات بہت خراب تھے، میں نے اس وقت آصف علی زرداری سے پوچھا کہ میں ان کے ساتھ کیسے کام کروں، زرداری صاحب نے کہا کہ آپ صوبے کی بہتری کے لیے ان کے ساتھ ملیں اور کام کریں۔ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور سے بھی کہتا ہوں کہ اپنے لوگوں کے لیے کام کریں، علی امین گنڈا پور اپنے حق کے لیے ضرور آواز بلند کریں۔  وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا کہ جی ڈی اے اور سنی اتحاد کائونسل کے پورے سندھ میں امیدوار بھی کھڑے نہیں تھے، جی ڈی اے کو علم تھا کہ وہ الیکشن ہاریں گے، میں اپنے ایم پی اے کے فارم 45 کی گارنٹی لیتا ہوں، میرے حلقے میں جی ڈی اے کے بیشتر پولنگ ایجنٹ ہی موجود نہیں تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے، نگراں دور میں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہوئی ہے، امن و امان کی صورتحال ہماری پہلی ترجیح ہے، امید ہے ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے نئے وزیر خزانہ اہم کردار ادا کریں گے، میں انٹر بورڈ چیئرمین نسیم میمن کے معاملے کو دیکھ رہا ہوں، محکمۂ یونیورسٹی اینڈ بورڈز کا ابھی کوئی وزیر نہیں، میں ہی اسےدیکھ رہا ہوں۔ واٹر اکارڈ کے تحت ارسا ایکٹ بنا تھا اور اتھارٹی بنائی گئی تھی، ارسا کا مقصد ہی تھا کہ وہ آزاد اتھارٹی ہواور اس پر وفاق کی کوئی اثر اندازی نہ ہو۔ ارسا کے پانچ ممبر ہوا کرتے تھے اور 4 صوبوں اور ایک وفاق کا ہوتا ہےاس کی چیئرمین شپ ان پانچوں ممبراں کے درمیاں ہوا کرتی تھی۔ مگر نگراں حکومت کے دور میں ایک آرڈیننس آیا اس میں ارسا ایکٹ میں کچھ تبدیلی کی گئی  اور اس تبدیلیوں میں ایک تبدیلی یہ بھی تھی کہ جی ارسا کا چیئرمن وفاق سے ایک نمائندہ ہوگا یہ چھٹا میمبر ایک آگیا اور وہ چیئرمن ارسا وہ ہوا کرے گا ۔ وزیراعظم سے ہم نے کل بات کرنی کوشش کی تھی مگر بات نہیں ہوسکی، آج انشاءاللہ بات ہوگی۔ ہم نے کل اپنی کابینہ اجلاس میں ارسا معاملہ پر تبادلہ خیال کیا تھا اور کابینہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ہم اس پر احتجاج کرینگے، اس پر غالباً نگراں حکومت نے بھی احتجاج کیا تھا کہ یہ ایکٹ یا آرڈیننس لائے ہیں جبکہ قومی اسمبلی موجود نہیں اور اس وقت وفاقی حکومت نے ایسا کیا ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جاتا اگر ایکٹ پاس ہوتا تو اس پر ضرور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبران اپنی رائے کا اظہار کرتے اور مجھے پورا یقین ہے یہ ایکٹ اسیمبلی سے پاس نہیں ہوتا۔ مگر ارسا میں ایک شخص کو تعینات کر دیا ہے اور ہمیں اس شخص پر بھی اعتراض ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہی نہیں کہ ارسا کو وفاق کے کنٹرول میں لایا جائے۔ پہلے پانی کی تقسیم واپڈا کیا کرتی تھی اور اس کے بعد پانی کی تقسیم کو واپڈا اور وفاق کے کنٹرول سے نکالنے کے لئے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) بنائی گی۔  1991 میں نواز لیگ کی ہی حکومت تھی جس نے واٹر اکارڈ بنایا تھا۔ ہمیں واٹر اکارڈ پر اعتراضات ہیں لیکن اس کو بہتر کرنے کے بجائے اس کو مزید خراب کردیا گیا ہے۔ ایک وقت میں تو یہ بھی طے ہوا تھا کہ وفاق کا نمائدہ بھی دریا کے آخرے میں جو صوبے ہیں سندھ اور بلوچستان خاص طور پر سندھ میں زراعت زیادہ کاشت کی جاتی ہے۔   بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو بذریعہ فون ارسا چیئرمین کی مقرری پر بات چیت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ  ارسا چیئرمین کی تعیناتی ارسا کے 5 ممبراں میں سے ہوا کرتی ہے باہر سے نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے یقین دلایا کہ  ارسا چیئرمین کا فیصلہ صوبوں کی مرضی سے ہوگا۔  وزیراعلیٰ سندھ نے ارسا ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو یقین دلایا کہ ارسا چیئرمین کی تعیناتی اور ایکٹ میں ترمیم صوبوں کی مشاورت سے کی جائے گی۔