کراچی (سماج نیوز) سندھ کابینہ کی سب کمیٹی کے اراکین صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، صوبائی وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ اور مشیر بحالی گیان چند اسرانی کی مشترکہ پریس کانفرنس
کراچی 27 مارچ۔ سندھ کابینہ کی سب کمیٹی برائے گندم پالیسی کے اراکین صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، صوبائی وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ اور مشیر بحالی گیان چند اسرانی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں گندم خریداری کی جامع اور شفاف حکمت عملی کا اعلان کیا۔
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے بتایا کہ سندھ حکومت رواں سیزن میں 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدے گی جبکہ گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم خریداری کا عمل یکم اپریل سے صوبے بھر میں قائم 109 خریداری مراکز سے شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار گندم خریداری صرف رجسٹرڈ ہاری کارڈ ہولڈرز سے کی جائے گی جس سے شفافیت، میرٹ اور براہ راست ہاریوں کو فائدہ پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار ہاری مستفید ہوں گے۔ صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ اس سال حکومت باردانہ فراہم نہیں کرے گی بلکہ ہاری اپنا باردانہ خود لائیں گے، جس کے عوض انہیں 60 روپے فی بوری کے حساب سے ادائیگی کی جائے گی جو سندھ بینک کے ذریعے براہ راست ہاریوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اس اقدام سے خریداری کے عمل کو مزید آسان اور شفاف بنایا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے رمضان المبارک میں 84 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے اور رمضان المبارک کے دوران گندم اور آٹے کی فراہمی کو شفاف انداز میں یقینی بنایا گیا جس کے باعث عوام کو سستا آٹا دستیاب رہا۔ مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ بے ضابطگیوں پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں 43 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، 22 کو معطل، 9 کو ملازمت سے برطرف جبکہ 6 کیسز اینٹی کرپشن کو بھجوائے گئے۔
صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خوراک کے پاس 12 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا مکمل ریکارڈ موجود تھا اور گندم چوری سے متعلق میڈیا رپورٹس بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے گندم خرید کر اسے محفوظ رکھا جو رمضان کے دوران عوام کو فراہم کی گئی جبکہ اس وقت بھی تقریباً 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ موجود ہے جسے ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سالانہ تقریباً 43 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوتی ہے اور موجودہ پالیسی چھوٹے آبادگاروں کے تحفظ اور ان کو براہ راست فائدہ پہنچانے کیلئے مرتب کی گئی ہے، جنہیں پہلے بھی ڈی اے پی اور یوریا کی مد میں سبسڈی فراہم کی گئی تھی۔
صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ ہاری کارڈ اسکیم کے ذریعے ہاریوں کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچا ہے اور اب اسی نظام کے تحت گندم کی خریداری بھی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ اصل کاشتکار مستفید ہو سکیں۔ صوبائی وزیر خوراک نے مزید اعلان کیا کہ محکمہ خوراک اور زراعت کے درمیان ایک مشترکہ ڈیجیٹل ویب سائٹ قائم کی جائے گی تاکہ خریداری کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور ڈیٹا پر مبنی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی سندھ حکومت کی قیادت کے وژن کے مطابق تشکیل دی گئی ہے جس کا مقصد اداروں کو مضبوط بنانا، ہاریوں کو سہولیات فراہم کرنا، خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا اور عوام کو سستے آٹے کی دستیابی ممکن بنانا ہے۔ سندھ حکومت گندم کی مستحکم فراہمی، کسانوں کے تحفظ اور قیمتوں کے استحکام کیلئے پرعزم ہے