کراچی / اسلام آباد / لاہور (سماج نیوز ڈیسک) آج عالمی یوم مزدور کے موقع پر ملک بھر میں محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ مختلف سیاسی و حکومتی شخصیات نے اپنے پیغامات میں مزدوروں کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح بنانے پر زور دیا۔
صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ قوم کے ساتھ مل کر اُن محنت کشوں کی تاریخی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے منصفانہ اجرت، مناسب اوقاتِ کار اور باوقار حالاتِ کار کے لیے قربانیاں دیں۔ انہوں نے شکاگو مزدور تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی کا تصور انسانی وقار کی بنیاد ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ 1973 کے آئین، خصوصاً آرٹیکل 3 “استحصال کا خاتمہ” مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، اور ریاست اس پر عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی لیبر معیارات، سماجی تحفظ، جبری مشقت کے خاتمے اور امتیازی سلوک کے خلاف اقدامات جاری رکھے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں محنت کشوں کو “قوم کی اصل طاقت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک منصفانہ معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب مزدوروں کو بااختیار بنایا جائے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی مزدور دوست پالیسیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے پیغام میں دنیا بھر کے مزدوروں کو “سرخ سلام” پیش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت مزدور دوست پالیسیوں کے ذریعے ان کا معیارِ زندگی بلند کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر مزدور کارڈ، کم از کم اجرت پر عملدرآمد اور تاریخی قانون سازی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی نے کہا کہ مزدور وہ طبقہ ہے جو دنیا کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے اور وہ صرف تعریف نہیں بلکہ انصاف، تحفظ اور احترام کے حقیقی حقدار ہیں۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مزدور کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں اور حکومت سندھ ان کی فلاح کے لیے کم از کم اجرت، لیبر قوانین پر عمل اور ٹیکنیکل ٹریننگ جیسے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر محمد علی ملکانی، صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی اپنے پیغامات میں مزدوروں کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے ان کے حقوق کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیا۔
ترجمان سندھ حکومت ہیر سوہو اور صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے مزدوروں کے لیے تاریخی قانون سازی کی ہے، جس میں سوشل سکیورٹی کی توسیع اور ہوم بیسڈ ورکرز کو حقوق دینا شامل ہے۔
دریں اثناء کراچی میں مختلف تقریبات اور جلسوں کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں مزدور تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں شرکت کر کے شکاگو کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کریں گی اور مزدوروں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کریں گی۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایک ایسا پاکستان تشکیل دیا جائے گا جہاں ہر مزدور کو عزت، تحفظ اور منصفانہ معاوضہ حاصل ہو، کیونکہ محنت کشوں کو بااختیار بنانا ہی مضبوط اور پائیدار معیشت کی ضمانت ہے۔