کراچی (سماج نیوز) برطانوی ہائی کمیشن کے اعلیٰ سطحی وفد نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی رہائش گاہ پر سندھ حکومت کے اعلیٰ سطحی وفد سے اہم ملاقات کی، جس میں سندھ میں سرمایہ کاری، برطانوی جامعات کے کیمپس، نوجوانوں کے لیے روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، علاقائی صورتحال اور پاک برطانیہ تعاون کے فروغ سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کو سندھ میں مستقبل کی سرمایہ کاری اور ترقیاتی شراکت داری کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی وفد میں پولیٹیکل کونسلر نکول رابرٹس، ڈپٹی ہائی کمشنر ٹام برج، سیکنڈ سیکریٹری (پولیٹیکل) سیم پلیس، ہدیٰ اکرام اور سارہ پینگ شامل تھے، جبکہ سندھ حکومت کے وفد کی قیادت سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کی۔ وفد میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، مکیش کمار چاولہ، معاونینِ خصوصی قاسم نوید قمر، قاسم سراج سومرو اور رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران سندھ حکومت نے برطانوی وفد کو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح و بہبود، تعلیم، روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے، ماحولیات کے تحفظ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ برطانوی وفد نے سندھ حکومت کے عوام دوست منصوبوں، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، خواتین کی ترقی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے پاکستان میں پہلی مرتبہ الیکٹرک بسیں متعارف کرا کے ماحولیاتی تحفظ کی جانب ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے، جبکہ جلد ہی الیکٹرک ٹیکسی سروس بھی شروع کی جائے گی، جس میں خواتین ڈرائیورز خواتین مسافروں کو سفری سہولت فراہم کریں گی۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کو خودمختار بنانے کے لیے سندھ حکومت ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کو مفت پنک اسکوٹیز فراہم کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین کے ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواستوں کی تعداد چند سال قبل تقریباً 450 سے بڑھ کر 25 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی معاشرے میں خواتین کے کردار سے متعلق روایتی سوچ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے برطانوی وفد کو سندھ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز، جدید انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے برطانوی سرمایہ کاروں کو سندھ میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ برطانیہ کی معروف جامعات سندھ میں اپنے کیمپس قائم کریں تاکہ ہزاروں پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم اپنے ہی صوبے میں میسر آ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت پاک و برطانوی سرمایہ کاروں کے درمیان مشترکہ ورکشاپ منعقد کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ تجارت، صنعت، تعلیم اور انفراسٹرکچر سمیت مختلف شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کی راہیں کھل سکیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر شروع کیا گیا "آئی ورک فار سندھ” پلیٹ فارم نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کر رہا ہے، جبکہ فنی اور تکنیکی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوان عالمی منڈی میں باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔
انہوں نے سیلاب متاثرین کے لیے جاری 21 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کو دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ گھروں کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کی جا رہی ہے تاکہ انہیں معاشی اور سماجی طور پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اسی طرح ہاری کارڈ کے ذریعے کسانوں کو مفت بیج اور کھاد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدنی بہتر بن سکے۔
ملاقات کے دوران سندھ حکومت کے وفد نے برطانوی وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم سے بھی آگاہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے برطانوی وفد کو بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے سندھ حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا، جبکہ معاونِ خصوصی قاسم نوید قمر نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور دیگر اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ملاقات کے اختتام پر سندھ حکومت کے وفد نے برطانوی مہمانوں کو سندھ کی ثقافت کی علامت روایتی سندھی ٹوپی اور سندھی لنگی بطور تحفہ پیش کی۔