• بدھ. جولائی 22nd, 2026

سماج

سماج کی بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کریں

سرکاری منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ناقابلِ قبول، عوام کے ٹیکس کا ہر روپیہ جواب طلب ہے: سینیٹر سید وقار مہدی

Bysamaj.com.pk

جولائی 22, 2026

اسلام آباد: (سماج نیوز) سینیٹ کی اقتصادی امور سے متعلق ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینیئر سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں اضافے، منصوبوں کی پیش رفت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں اقتصادی امور ڈویژن (EAD)، پلاننگ کمیشن، پاور ڈویژن، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA)، واپڈا، ہیسکو، پیسکو اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران سرکاری منصوبوں کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر اور اس کے نتیجے میں اربوں روپے کے اضافی اخراجات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کنوینیئر کمیٹی سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ منصوبوں میں تاخیر سے نہ صرف قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے پاکستان کا تشخص بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "قوم کا پیسہ ان منصوبوں پر خرچ کیا گیا ہے، اس لیے ہر متعلقہ ادارہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔”

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہوتا یہ ہے کہ منصوبوں پر صرف تختیاں لگا دی جاتی ہیں اور پھر برسوں تک کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔” ان کا کہنا تھا کہ 2013 میں جن منصوبوں کا تخمینہ لگایا گیا، اس وقت ڈالر تقریباً 100 روپے تھا جبکہ آج ڈالر 280 روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اس لیے تاخیر کے باعث منصوبوں کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔

وقار مہدی نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں کئی منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہوسکے، جس سے عوامی وسائل کا ضیاع ہوا اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے یہ تاثر گیا کہ پاکستان ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اجلاس میں سینیٹر روبینہ خالد نے بھی سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبوں میں تاخیر کی وجوہات کچھ بھی ہوں، اضافی لاگت کا بوجھ آخرکار عوام کو اپنے ٹیکسوں کی صورت میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ زمین کے حصول (Land Acquisition) اور دیگر انتظامی معاملات قرض حاصل کرنے سے پہلے کیوں مکمل نہیں کیے جاتے۔

تربیلا ڈیم توسیعی منصوبہ

حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تربیلا ڈیم کی توسیع کے منصوبے میں ارسا سے منظوری حاصل کرنے میں کافی وقت لگا۔ اس پر روبینہ خالد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "کیا ارسا ہندوستان میں ہے؟ ملکی اداروں کے درمیان رابطے کا یہ عالم کیوں ہے؟”

اس پر کنوینیئر کمیٹی وقار مہدی نے کہا کہ ملکی اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان انتہائی افسوسناک ہے، جبکہ روبینہ خالد نے اسے "مجرمانہ غفلت” قرار دیا۔ وقار مہدی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ارسا حکام کو بھی طلب کیا جائے تاکہ تاخیر کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

ورسک ری ہیب منصوبہ

اجلاس میں ورسک ری ہیب منصوبے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبہ 2015 میں منظور ہوا مگر عملی کام 2023 میں شروع ہوا۔

اس پر وقار مہدی نے استفسار کیا کہ "آٹھ سال تک منصوبہ شروع کیوں نہ ہوسکا؟” حکام نے کورونا وبا اور پی سی ون کی منظوری میں تاخیر کو وجہ قرار دیا، تاہم وقار مہدی نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "کورونا صرف بہانہ نہیں بن سکتا، اس دوران بھی مخصوص ایس او پیز کے تحت ترقیاتی سرگرمیاں جاری رہیں۔”

انہوں نے بڈر کو اضافی وقت دینے کے قانونی جواز پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر کوئی قانون موجود ہے تو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویژن کو منصوبے میں تاخیر کی باقاعدہ انکوائری کرانے کی ہدایت کر دی۔

پاور سیکٹر اور بجلی کے منصوبے

اجلاس میں جامشورو کے ایک بجلی منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ منصوبہ ٹیکسوں کے تنازع کے باعث چار سال تاخیر کا شکار رہا، تاہم بعد ازاں حکومتی فنڈنگ فراہم ہونے پر مکمل کیا گیا۔ کنوینیئر کمیٹی نے بروقت تکمیل پر متعلقہ حکام کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس میں اسلام آباد کے بجلی صارفین کو غیر معمولی بل موصول ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہا کہ دو ہزار روپے کے بل والے صارفین کو ڈھائی لاکھ روپے تک کے بل بھیجے گئے ہیں۔ اس موقع پر وقار مہدی نے ذاتی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 202 یونٹ بجلی استعمال کرنے کے باوجود انہیں 18 ہزار 500 روپے کا بل موصول ہوا۔ سی ای او آئیسکو نے معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔

ہیسکو اور پیسکو منصوبے

پیسکو حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل میٹرنگ اور ایم آئی میٹرز منصوبے کے لیے سات ارب روپے درکار ہیں جبکہ حکومت نے صرف دو ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ روبینہ خالد نے پشاور شہر میں بجلی کی لٹکتی تاروں کو عوامی جان کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ وقار مہدی نے کہا کہ ان تاروں کی وجہ سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

ہیسکو کے سی ای او کی عدم موجودگی پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ وقار مہدی نے کہا کہ دیگر تمام ڈسکوز کے سربراہ اجلاس میں موجود ہیں، اس لیے ہیسکو کے سی ای او کو بھی حاضر ہونا چاہیے تھا۔ پاور ڈویژن حکام نے یقین دہانی کرائی کہ غیر حاضری پر وضاحت طلب کی جائے گی۔

داسو منصوبہ اور ٹرانسمیشن لائن

اجلاس میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ منصوبہ 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے تاہم ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر میں جنگلات، ٹاورز کی چوری اور بعض علاقوں میں مقامی مسائل رکاوٹ بن رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ایک منصوبے کی ٹرانسمیشن لائن کا کچھ حصہ افغانستان سے بھی گزرتا ہے، جہاں طالبان حکومت کے قیام کے بعد مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

این-45 شاہراہ منصوبہ

کمیٹی کو این-45 شاہراہ منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق 130 کلومیٹر طویل منصوبے کے پہلے سیکشن کا تفصیلی ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے جبکہ پی سی ون کی منظوری کا انتظار ہے۔

سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہا کہ اگر منصوبے کا ایک حصہ خیبرپختونخوا حکومت خود تعمیر کرے گی تو یہ وفاق کے لیے باعث شرمندگی ہوگا۔ کمیٹی نے منصوبے کا مکمل نقشہ اور پیش رفت رپورٹ آئندہ اجلاس میں طلب کر لی۔

پلاننگ کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان

اجلاس کے اختتام پر ذیلی کمیٹی نے ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل تاخیر، لاگت میں اضافے اور مختلف اداروں کی ناقص کارکردگی پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ارسا حکام کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ تاخیر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔